ہو جائے) رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا روئے مبارک متغیر ہو گیا یہاں تک کہ ہم کو گمان ہوا کہ ان دونوں پر غضب فرمایا وہ دونوں چلے گئے اور ان کے آگے دودھ کا ہدیہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس آیا حضور نے آدمی بھیج کر ان کو بلوایا اور پلایا تو وہ سمجھے کہ حضور نے ان پر غضب نہیں فرمایا تھا۔ (1)
حدیث ۲: صحیح بُخاری میں ہے، ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ہم حج کے لیے نکلے جب سرف (2) میں پہنچے مجھے حَیض آیا تو میں رو رہی تھی کہ رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے فرمایا: ''تجھے کیا ہوا؟ کیا تو حائض ہوئی؟'' عرض کی، ہاں۔ فرمایا: ''یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے بناتِ آدم پر لکھ دیا ہے تو سوا خانہ کعبہ کے طواف کے سب کچھ ادا کر جسے حج کرنے والا ادا کرتا ہے۔'' اور فرماتی ہیں حضور نے اپنی ازواجِ مطہرات کی طرف سے ایک گائے قربانی کی۔ (3)
حدیث ۳: صحیح بُخاری میں ہے عروہ سے سوال کیا گیا حَیض والی عورت میری خدمت کر سکتی ہے؟ اور جنب عورت مجھ سے قریب ہو سکتی ہے؟ عروہ نے جواب دیا یہ سب مجھ پر آسان ہیں اور یہ سب میری خدمت کر سکتی ہیں اور کسی پر اس میں کوئی حَرَج نہیں، مجھے ام المومنین عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ وہ حَیض کی حالت میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے کنگھا کرتیں اور حضور معتکف تھے اپنے سر مبارک کو ان سے قریب کر دیتے اور یہ اپنے حجرے ہی میں ہوتیں۔ (4)
حدیث ۴: صحیح مسلِم میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے ہے فرماتی ہیں کہ زمانہ حَیض میں، میں پانی پیتی پھر حضور کو دے دیتی تو جس جگہ میرا مونھ لگا تھا حضور وہیں دہن مبارک رکھ کر پیتے اور حالت حَیض میں، میں ہڈّی سے گوشت نوچ کر کھاتی پھر حضور کو دے دیتی تو حضور اپنا دہن شریف اس جگہ رکھتے جہاں میرا مونھ لگا تھا۔ (5)
حدیث ۵: صحیحین میں اُنھیں سے ہے کہ میں حائض ہوتی اور حضور میری گود میں تکیہ لگا کر قرآن پڑھتے۔ (6)
حدیث ۶: صحیح مسلِم میں اُنھیں سے مروی، فرماتی ہیں: حضور نے مجھ سے فرمایا کہ: ''ہاتھ بڑھا کر مسجد سے مصلیٰ اٹھا دینا۔'' عرض کی میں حائض ہوں۔ فرمایا: کہ '' تیرا حَیض تیرے ہاتھ میں نہیں۔'' (7)