| بہارِشریعت حصّہ دوم (2) |
اکثر حصہ پر ضروری ہے اور ایک بار مسح کافی ہے تکرار کی حاجت نہیں اور اگر پٹی پر بھی مسح نہ کر سکتے ہوں تو خالی چھوڑ دیں ،جب اتنا آرام ہو جائے کہ پٹی پر مسح کرنا ضرر نہ کرے تو فوراً مسح کر لیں ،پھر جب اتنا آرام ہو جائے کہ پٹی پر سے پانی بہانے میں نقصان نہ ہو تو پانی بہائیں، پھر جب اتنا آرام ہو جائے کہ خاص عُضْوْ پر مسح کر سکتا ہو تو فوراً مسح کرلے، پھر جب اتنی صحت ہو جائے کہ عُضْوْ پر پانی بہا سکتا ہو تو بہائے غرض اعلیٰ پر جب قدرت حاصل ہو اور جتنی حاصل ہوتی جائے ادنیٰ پر اکتفا جائز نہیں۔ (1)
مسئلہ ۱۰: ہڈّی کے ٹوٹ جانے سے تختی باندھی گئی ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ (2)
مسئلہ ۱۱: تختی یا پٹی کھل جائے اورہنوز باندھنے کی حاجت ہو تو پھر دوبارہ مسح نہیں کیا جائے گا وہی پہلا مسح کافی ہے اور جو پھر باندھنے کی ضرورت نہ ہو تو مسح ٹوٹ گیا اب اس جگہ کو دھو سکیں تو دھو لیں ورنہ مسح کر لیں۔ (3)حَیض کا بیان
اﷲ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
(وَ یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الْمَحِیۡضِ ؕ قُلْ ہُوَ اَذًی ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیۡضِ ۙ وَلَا تَقْرَبُوۡہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ ۚ فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاۡتُوۡہُنَّ مِنْ حَیۡثُ اَمَرَکُمُ اللہُ ؕ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیۡنَ ﴿۲۲۲﴾ ) ـ4ـ
اے محبوب! تم سے حَیض کے بارے میں لوگ سوال کرتے ہیں تم فرما دو وہ گندی چیز ہے تو حَیض میں عورتوں سے بچو اور ان سے قربت نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں تو جب پاک ہو جائیں ان کے پاس اس جگہ سے آؤ جس کا اﷲ نے تمہیں حکم دیا بیشک اﷲ دوست رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتا ہے پاک ہونے والوں کو۔
حدیث ۱: صحیح مسلِم میں اَنَس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی فرماتے ہیں کہ یہودیوں میں جب کسی عورت کو حَیض آتا تو اسے نہ اپنے ساتھ کھلاتے نہ اپنے ساتھ گھروں میں رکھتے۔ صحابہ کرام نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے سوال کیا اس پر اﷲ تعالیٰ نے آیہ ( وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ ) نازل فرمائی تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: '' جِماع کے سوا ہر شے کرو ۔ '' اس کی خبر یہود کو پہنچی تو کہنے لگے کہ یہ (نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ) ہماری ہر بات کا خلاف کرنا چاہتے ہیں، اس پر اُسَید بن حُضَیر اور عباد بن بشر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما نے آکر عرض کی کہ یہود ایسا ایسا کہتے ہیں تو کیا ہم ان سے جِماع نہ کریں (کہ پوری مخالفتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۵. 2۔۔۔۔۔۔ ''مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح''، باب المسح علی الخفین، فصل في الجبیرۃ ونحوہا، ص۳۲. 3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في لفظ کل إذا دخلت... إلخ، ج۱، ص۵۱۹، وغیرہما. 4۔۔۔۔۔۔ پ۲، البقرۃ: ۲۲۲.