| بہارِشریعت حصّہ دوم (2) |
حدیث ۵: ابو داود و تِرمذی راوی کہ مُغِیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا کہ مَوزوں کی پُشت پر مسح فرماتے۔ (1)
مَوزَوں پر مسح کرنے کے مسائل
جو شخص موزہ پہنے ہوئے ہو وہ اگر وُضو میں بجائے پاؤں دھونے کے مسح کرے جائز ہے اور بہتر پاؤں دھونا ہے بشرطیکہ مسح جائز سمجھے۔ اور اس کے جواز میں بکثرت حدیثیں آئی ہیں جو قریب قریب تواتر کے ہیں، اسی لیے امام کرخی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں جو اس کو جائز نہ جانے اس کے کافر ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ امام شیخ الاسلام فرماتے ہیں جو اسے جائز نہ مانے گمراہ ہے۔ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے اہلسنّت و جماعت کی علامت دریافت کی گئی فرمایا:
تَفْضِیْلُ الشَّیْخَیْنِ وَحُبُّ الْخَتْنَیْنِ وَمَسْحُ الْخُفَّیْنِ
یعنی حضرت امیر المومنین ابوبکر صدیق و امیر المومنین فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنھما کو تمام صحابہ سے بزرگ جاننا اور امیر المومنین عثمانِ غنی و امیر المومنین علی مرتضی رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے محبت رکھنا اور مَوزوں پر مسح کرنا۔ (2) اور ان تینوں باتوں کی تخصیص اس لیے فرمائی کہ حضرت کوفہ میں تشریف فرما تھے اور وہاں رافضیوں ہی کی کثرت تھی تو وہی علامات ارشاد فرمائیں جو ان کا رد ہیں۔ اس روایت کے یہ معنی نہیں کہ صرف ان تین باتوں کا پایا جانا سُنّی ہونے کے لیے کافی ہے۔ علامت شے میں پائی جاتی ہے، شے لازمِ علامت نہیں ہوتی جیسے حدیثِ صحیح بُخاری شریف میں وہابیہ کی علامت فرمائی:۔ (( سِیْمَا ھُمُ التَّحْلِیْقُ)) ان کی علامت سر منڈانا ہے۔ (3) اس کے یہ معنی نہیں کہ سر منڈانا ہی وہابی ہونے کے لیے کافی ہے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے دل میں اس کے جواز پر کچھ خدشہ نہیں کہ اس میں چالیس صحابہ سے مجھ کو حدیثیں پہنچیں۔ (4)
مسئلہ ۱ : جس پر غُسل فرض ہے وہ مَوزوں پر مسح نہیں کرسکتا۔ (5)
مسئلہ ۲ : عورتیں بھی مسح کر سکتی ہیں (6) مسح کرنے کے لیے چند شرطیں ہیں:ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجاء في المسح علی الخفین ظاھرھما، الحدیث: ۹۸، ج۱، ص۱۵۵. 2۔۔۔۔۔۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في المسح علی الخفین، ص۱۰۴. 3۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب التوحید، باب قراء ۃ الفاجر... إلخ، الحدیث: ۷۵۶۲، ج۴، ص۵۹۹. 4۔۔۔۔۔۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في المسح علی الخفین، ص۱۰۴. 5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین، ج۱، ص۴۹۵. 6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۶.