Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
364 - 432
    (۱) موزے ایسے ہوں کہ ٹخنے چھپ جائیں اس سے زِیادہ ہونے کی ضرورت نہیں اورا گردوایک اُنگل کم ہو جب بھی مسح درست ہے، ایڑی نہ کھلی ہو۔

    (۲) پاؤں سے چپٹا ہو، کہ اس کو پہن کر آسانی کے ساتھ خوب چل پھر سکیں۔ 

    (۳) چمڑے کا ہو یا صرف تَلا چمڑے کا اور باقی کسی اور دبیز چیز کا جیسے کرمچ وغیرہ۔ 

    مسئلہ ۳ :    ہندوستان میں جو عموماً سوتی یا اُونی موزے پہنے جاتے ہیں اُن پر مسح جائز نہیں ان کو اتار کر پاؤں دھونا فرض ہے۔ (1) 

    (۴) وُضو کرکے پہنا ہویعنی پہننے کے بعد اور حدث سے پہلے ایک ایسا وقت ہو کہ اس وقت میں وہ شخص با وُضو ہو خواہ پورا وُضو کرکے پہنے یا صرف پاؤں دھو کر پہنے بعد میں وُضو پورا کر لیا۔ 

    مسئلہ ۴: اگر پاؤں دھو کر موزے پہن لیے اور حدث سے پہلے مونھ ہاتھ دھو لیے اور سر کا مسح کر لیا تو بھی مسح جائز ہے اور اگر صرف پاؤں دھو کر پہنے اور بعد پہننے کے وُضو پورا نہ کیا اور حدث ہو گیا تو اب وُضو کرتے وقت مسح جائز نہیں۔ 

    مسئلہ ۵: بے وُضو موزہ پہن کر پانی میں چلا کہ پاؤں دُھل گئے اب اگر حدث سے پیشتر باقی اعضائے وُضو دھو لیے اور سر کا مسح کر لیا تو مسح جائز ہے ورنہ نہیں۔ (2) 

    مسئلہ ۶: وُضو کرکے ایک ہی پاؤں میں موزہ پہنااوردوسرا نہ پہنا ،یہاں تک کہ حدث ہوا تو اس ایک پر بھی مسح جائز نہیں دونوں پاؤں کا دھونا فرض ہے۔ 

    مسئلہ ۷: تیمم کرکے موزے پہنے گئے تو مسح جائز نہیں۔ (3) 

    مسئلہ ۸: معذور کو صرف اس ایک وقت کے اندر مسح جائز ہے جس وقت میں پہنا ہو۔ ہاں اگر پہننے کے بعد اور حدث
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۴، ص۳۴۵. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الأول، ج۱، ص۳۳. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الأول، ج۱، ص۳۳.
Flag Counter