| بہارِشریعت حصّہ دوم (2) |
مسئلہ ۱۳: کسی نے غُسل کیا مگر تھوڑا سا بدن سوکھا رہ گیا یعنی اس پر پانی نہ بہا اور پانی بھی نہیں کہ اسے دھو لے اب غُسل کا تیمم کیا پھر بے وُضو ہوا اور وُضو کا بھی تیمم کیا پھر اسے اتنا پانی ملا کہ وُضو بھی کرلے اور وہ سوکھی جگہ بھی دھولے تو دونوں تیمم وُضو اور غُسل کے جاتے رہے اور اگر اتناپانی ملا کہ نہ اس سے وُضو ہو سکتا ہے نہ وہ جگہ دُھل سکتی ہے تو دونوں تیمم باقی ہیں اور اس پانی کو اس خشک حصہ کے دھونے میں صرف کرے جتنا دُھل سکے اور اگر اتنا ملا کہ وُضو ہو سکتا ہے اور خشکی کے لیے کافی نہیں تو وُضو کا تیمم جاتا رہا اس سے وُضو کرے اور اگر صرف خشک حصہ کو دھو سکتاہے اور وُضو نہیں کر سکتا تو غُسل کا تیمم جاتا رہا، وُضو کا باقی ہے اس پانی کو اس کے دھونے میں صرف کرے اور اگر ایک کر سکتا ہے چاہے وُضو کرے چاہے اسے دھولے تو غُسل کا تیمم جاتا رہا اس سے اس جگہ کو دھولے اور وُضو کا تیمم باقی ہے۔ (1)
مَوزَوں پر مسح کا بیان
حدیث ۱: امام احمدوابو داود نے مُغِیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مَوزوں پر مسح کیا ،میں نے عرض کی یا رسول اﷲ ! حضور بھول گئے فرمایا:'' بلکہ تُو بھولا میرے رب عزوجل نے اسی کا حکم دیا۔'' (2)
حدیث ۲: دارقُطنی نے ابوبکرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسافر کو تین دن، تین راتیں اور مقیم کو ایک دن رات مَوزوں پر مسح کرنے کی اجازت دی ،جب کہ طہارت کے ساتھ پہنے ہوں۔ (3)
حدیث ۳: تِرمذی و نَسائی صَفْوان بن عَسّال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، جب ہم مسافر ہوتے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حکم فرماتے کہ تین دن راتیں ہم موزے نہ اتاریں مگر بوجہ جنابت کے، ولیکن پاخانہ اور پیشاب اور سونے کے بعد نہیں۔ (4)
حدیث ۴: ابو داود نے روایت کی کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اگر دین اپنی رائے سے ہوتا تو موزے کا تَلا، بہ نسبت اوپر کے مسح میں بہتر ہوتا۔ (5)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۹. 2۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود'' ،کتاب الطھارۃ، باب المسح علی الخفین الحدیث: ۱۵۶، ج۱، ص ۸۶. 3۔۔۔۔۔۔ ''سنن الدار قطني''، کتاب الطھارۃ، باب الرخصۃ في المسح علی الخفین... إلخ، الحدیث: ۷۳۷، ج۱، ص۲۷۰. 4۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب المسح علی الخفین للمسافر... إلخ، الحدیث: ۹۶، ج۱، ص۱۵۳. 5۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب کیف المسح، الحدیث: ۱۶۲، ج۱، ص ۸۸.