مسئلہ ۶: ایسی جگہ گزر ا کہ وہاں سے پانی قریب ہے مگر پانی کے پاس شیر یا سانپ یا دشمن ہے جس سے جان یا مال یا آبرو کا صحیح اندیشہ ہے یا قافلہ انتظار نہ کریگا اور نظروں سے غائب ہو جائے گا یا سواری سے اتر نہیں سکتا جیسے ریل یا گھوڑا کہ اس کے روکے نہیں رُکتا یا گھوڑا ایسا ہے کہ اُترنے تو دے گا مگر پھر چڑھنے نہ دے گا یایہ اتنا کمزور ہے کہ پھر چڑھ نہ سکے گا یا کوئیں میں پانی ہے اور اس کے پاس ڈول رسّی نہیں تو ان سب صورتوں میں تیمم نہیں ٹوٹا۔ (1)
مسئلہ ۷: پانی کے پاس سے سوتا ہوا گذرا تیمم نہیں ٹوٹا۔ (2) ہاں اگر تیمم وُضو کا تھا اور نیند اس حد کی ہے جس سے وُضو جاتا رہے تو بیشک تیمم جاتا رہا مگر نہ اس وجہ سے کہ پانی پر گذرا بلکہ سو جانے سے اور اگر اونگھتا ہوا پانی پرگذرا اور پانی کی اطلاع ہو گئی تو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں۔
مسئلہ ۸: پانی پر گزرا اور اپنا تیمم یاد نہیں جب بھی تیمم جاتا رہا۔ (3)
مسئلہ ۹: نماز پڑھتے میں گدھے یا خچر کا جھوٹا پانی دیکھا تو نماز پوری کرے پھر اس سے وُضو کرے پھر تیمم کرے اور نماز لوٹائے۔
مسئلہ ۱۰: نماز پڑھتا تھا اور دور سے ریتا چمکتا ہوا دکھائی دیا اور اُسے پانی سمجھ کر ایک قدم بھی چلا پھر معلوم ہوا ریتا ہے نماز فاسد ہو گئی مگر تیمم نہ گیا۔
مسئلہ ۱۱: چند شخص تیمم کیے ہوئے تھے کسی نے ان کے پاس ایک وُضو کے لائق پانی لا کر کہا جس کا جی چاہے اس سے وُضو کرلے سب کا تیمم جاتا رہے گا اور اگر وہ سب نماز میں تھے تو نماز بھی سب کی گئی اور اگر یہ کہا کہ تم سب اس سے وُضو کرلو تو کسی کا بھی تیمم نہ ٹوٹے گا۔(5) یوہیں اگر یہ کہا کہ میں نے تم سب کو اس پانی کا مالک کیا جب بھی تیمم نہ گیا۔
مسئلہ ۱۲: پانی نہ ملنے کی وجہ سے تیمم کیا تھا اب پانی ملا تو ایسا بیمار ہو گیا کہ پانی نقصان کریگا تو پہلا تیمم جاتا رہا اب بیماری کی وجہ سے پھر تیمم کرے یوہیں بیماری کی وجہ سے تیمم کیا اب اچھا ہو ا تو پانی نہیں ملتا جب بھی نیا تیمم کرے۔ (6)