مسئلہ ۱: جن چیزوں سے وُضو ٹوٹتا ہے یا غُسل واجب ہوتا ہے ان سے تیمم بھی جاتا رہے گا اور علاوہ ان کے پانی پر قادر ہونے سے بھی تیمم ٹوٹ جائے گا۔ (3)
مسئلہ ۲: مریض نے غُسل کا تیمم کیا تھا اور اب اتنا تندرست ہو گیا کہ غُسل سے ضرر نہ پہنچے گا تیمم جاتا رہا۔ (4)
مسئلہ ۳: کسی نے غُسل اور وُضو دونوں کے لیے ایک ہی تیمم کیا تھا پھر وُضو توڑنے والی کوئی چیز پائی گئی یا اتنا پانی پایا کہ جس سے صرف وُضو کر سکتا ہے یا بیمار تھا اور اب اتنا تندرست ہو گیا کہ وُضو نقصان نہ کریگا اور غُسل سے ضرر ہو گا تو صرف وُضو کے حق میں تیمم جاتا رہا غُسل کے حق میں باقی ہے۔ (5)
مسئلہ ۴: جس حالت میں تیمم ناجائز تھا اگر وہ بعد تیمم پائی گئی تیمم ٹوٹ گیا جیسے تیمم والے کا ایسی جگہ گذر ہوا کہ وہاں سے ایک میل کے اندر پانی ہے تو تیمم جاتا رہا۔ یہ ضرور نہیں کہ پانی کے پاس ہی پہنچ جائے۔
مسئلہ ۵: اتنا پانی ملا کہ وُضو کے لیے کافی نہیں ہے یعنی ایک مرتبہ مونھ اور ایک ایک مرتبہ دونوں ہاتھ پاؤں نہیں دھوسکتا تو وُضو کا تیمم نہیں ٹوٹا اور اگر ایک ایک مرتبہ دھو سکتا ہے تو جاتا رہا۔ یوہیں غُسل کے تیمم کرنے والے کو اتنا پانی ملا جس سے غُسل نہیں ہو سکتا تو تیمم نہیں گیا۔ (6)