Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
360 - 432
    مسئلہ ۲۵: جس جگہ سے ایک نے تیمم کیا دوسرا بھی کر سکتا ہے یہ جو مشہور ہے کہ مسجد کی دیوار یا زمین سے تیمم ناجائز یا مکروہ ہے غلط ہے۔ (1) 

    مسئلہ ۲۶: تیمم کے لیے ہاتھ زمین پر مارا اور مسح سے پہلے ہی تیمم ٹوٹنے کا کوئی سبب پایا گیا تو اس سے تیمم نہیں کرسکتا۔ (2)
تیمّم کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے
    مسئلہ ۱: جن چیزوں سے وُضو ٹوٹتا ہے یا غُسل واجب ہوتا ہے ان سے تیمم بھی جاتا رہے گا اور علاوہ ان کے پانی پر قادر ہونے سے بھی تیمم ٹوٹ جائے گا۔ (3) 

    مسئلہ ۲: مریض نے غُسل کا تیمم کیا تھا اور اب اتنا تندرست ہو گیا کہ غُسل سے ضرر نہ پہنچے گا تیمم جاتا رہا۔ (4) 

    مسئلہ ۳: کسی نے غُسل اور وُضو دونوں کے لیے ایک ہی تیمم کیا تھا پھر وُضو توڑنے والی کوئی چیز پائی گئی یا اتنا پانی پایا کہ جس سے صرف وُضو کر سکتا ہے یا بیمار تھا اور اب اتنا تندرست ہو گیا کہ وُضو نقصان نہ کریگا اور غُسل سے ضرر ہو گا تو صرف وُضو کے حق میں تیمم جاتا رہا غُسل کے حق میں باقی ہے۔ (5) 

    مسئلہ ۴: جس حالت میں تیمم ناجائز تھا اگر وہ بعد تیمم پائی گئی تیمم ٹوٹ گیا جیسے تیمم والے کا ایسی جگہ گذر ہوا کہ وہاں سے ایک میل کے اندر پانی ہے تو تیمم جاتا رہا۔ یہ ضرور نہیں کہ پانی کے پاس ہی پہنچ جائے۔ 

    مسئلہ ۵: اتنا پانی ملا کہ وُضو کے لیے کافی نہیں ہے یعنی ایک مرتبہ مونھ اور ایک ایک مرتبہ دونوں ہاتھ پاؤں نہیں دھوسکتا تو وُضو کا تیمم نہیں ٹوٹا اور اگر ایک ایک مرتبہ دھو سکتا ہے تو جاتا رہا۔ یوہیں غُسل کے تیمم کرنے والے کو اتنا پانی ملا جس سے غُسل نہیں ہو سکتا تو تیمم نہیں گیا۔ (6)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

مرجان (یعنی مونگے)سے تیمم کرنے کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے فتاویٰ رضویہ ، جلد3 صَفْحَہ 684تا688 ملاحظہ فرمایئے۔ 

1۔۔۔۔۔۔ ''منیۃ المصلي''، بیان التیمم وطہارۃ الأرض، ص۵۸. 

و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۷۳۸. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۶. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۹. 

4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۰. 

و ''الدر المختار'' و''رد المحتار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱، ص۴۷۸.
Flag Counter