مسئلہ ۶: پکّی اینٹ چینی یا مٹی کے برتن سے جس پر کسی ایسی چیز کی رنگت ہو جو جنس زمین سے ہے۔جیسے گیرو (1) کَھریا (2) مٹی یا وہ چیز جس کی رنگت جنس زمین سے تو نہیں مگر برتن پر اس کا جرم نہ ہو تو ان دونوں صورتوں میں اس سے تیمم جائز ہے اور اگر جنس زمین سے نہ ہو اور اس کا جرم برتن پر ہو تو جائز نہیں۔
مسئلہ ۷: شورہ جو ہنوز پانی میں ڈال کر صاف نہ کیا گیا ہو اس سے تیمم جائز ہے ورنہ نہیں۔ (3)
مسئلہ ۸: جو نمک پانی سے بنتا ہے اس سے تیمم جائز نہیں اور جو کان سے نکلتا ہے جیسے سیندھا نمک اس سے جائز ہے۔ (4)
مسئلہ ۹: جو چیز آگ سے جل کر راکھ ہو جاتی ہو جیسے لکڑی، گھاس وغیرہ یا پگھل جاتی یا نَرْم ہو جاتی ہو جیسے چاندی،سونا، تانبا، پیتل، لوہا وغیرہ دھاتیں وہ زمین کی جنس سے نہیں اس سے تیمم جائز نہیں۔ ہاں یہ دھاتیں اگر کان سے نکال کر پگھلائی نہ گئیں کہ ان پر مٹی کے اجزا ہنوز باقی ہیں تو ان سے تیمم جائز ہے اور اگر پگھلا کر صاف کر لی گئیں اور ان پر اتنا غبار ہے کہ ہاتھ مارنے سے اس کا اثر ہاتھ میں ظاہر ہوتا ہے تو اس غبار سے تیمم جائز ہے، ورنہ نہیں۔ (5)
مسئلہ ۱۰: غلہ، گیہوں، جو وغیرہ اور لکڑی یا گھاس اور شیشہ پر غبار ہو تو اس غبار سے تیمم جائز ہے جب کہ اتنا ہو کہ ہاتھ میں لگ جاتا ہو ورنہ نہیں۔ (6)
مسئلہ ۱۱: مشک و عنبر، کافور، لوبان سے تیمم جائز نہیں۔ (7)
مسئلہ ۱۲: موتی اور سیپ اور گھونگے سے تیمم جائز نہیں اگرچہ پسیہوں اور ان چیزوں کے چُونے سے بھی ناجائز۔ (8)
مسئلہ ۱۳: راکھ اور سونے چاندی فولاد وغیرہ کے کشتوں سے بھی جائز نہیں۔ (9)
مسئلہ ۱۴: زمین یا پتھر جل کر سیاہ ہو جائے اس سے تیمم جائز ہے یوہیں اگر پتھر جل کر راکھ ہو جائے اس سے بھی جائز ہے۔ (10)