Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
357 - 432
صورت میں خلاف سنّت ہوا۔ (1) 

    مسئلہ ۱: اگر مسح کرنے میں صرف تین انگلیاں کام میں لایا جب بھی ہو گیا اور اگر ایک یا دو سے مسح کیا تیمم نہ ہوا اگرچہ تمام عُضْوْ پر ان کو پھیر لیا ہو۔ 

    مسئلہ ۲: تیمم ہوتے ہوئے دوبارہ تیمم نہ کرے۔ (2) 

    مسئلہ ۳: خلال کے لیے ہاتھ مارنا ضروری نہیں۔ (3)
کس چیز سے تیمّم جائز ہے اور کس سے نہیں
    مسئلہ ۱: تیمم اسی چیز سے ہو سکتا ہے جو جنس زمین سے ہو اور جو چیز زمین کی جنس سے نہیں اس سے تیمم جائز نہیں۔(4) 

    مسئلہ ۲: جس مٹی سے تیمم کیا جائے اس کا پاک ہونا ضرور ی ہے یعنی نہ اس پر کسی نجاست کا اثر ہو نہ یہ ہو کہ محض خشک ہونے سے اثر نَجاست جاتا رہا ہو۔ (5) 

    مسئلہ ۳: جس چیز پر نجاست گری اور سُوکھ گئی اس سے تیمم نہیں کر سکتے اگرچہ نجاست کا اثر باقی نہ ہو البتہ نماز اس پر پڑھ سکتے ہیں۔ (6) 

    مسئلہ ۴: یہ وہم کہ کبھی نجس ہوئی ہو گی فضول ہے اس کا اعتبار نہیں۔ 

    مسئلہ ۵: جو چیز آگ سے جل کر نہ راکھ ہوتی ہے نہ پگھلتی ہے نہ نَرْم ہوتی ہے وہ زمین کی جنس سے ہے اس سے تیمم جائز ہے۔ ریتا، چونا، سرمہ، ہرتال، گندھک، مردہ سنگ، گیرو، پتھر، زبرجد، فیروزہ، عقیق، زمرد وغیرہ جواہر سے تیمم جائز ہے اگرچہ ان پر غبار نہ ہو۔ (7)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱، ص۴۳۷۔۴۳۹. 

و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثالث، ج۱، ص۳۰، وغیرہ. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۳۷۶. 

3۔۔۔۔۔۔ ''البحر الرائق''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱، ص۲۵۳. 

4۔۔۔۔۔۔ ''خلاصۃ الفتاوی''، کتاب الطہارات، الفصل الخامس في التیمم، ج۱، ص۳۵. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۶. 

6۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۲۷،وغیرہ. 

7۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۶۔۲۷.
Flag Counter