Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
356 - 432
اور بھی ہے تو اس کی امامت کر سکتا ہے۔ (1) 

    مسئلہ ۶۳: تیمم کے ارادے سے زمین پر لوٹا اور مونھ اور ہاتھوں پر جہاں تک ضرورہے ہر ذرّہ پر گرد لگ گئی تو ہو گیا ورنہ نہیں اور اس صورت میں مونھ اور ہاتھوں پر ہاتھ پھیر لینا چاہیے۔ (2)
تیمّم کی سنتیں
    (۱) بسم اﷲ کہنا۔

    (۲) ہاتھوں کو زمین پر مارنا۔

    (۳) انگلیاں کھلی ہوئی رکھنا۔

    (۴) ہاتھوں کو جھاڑ لینا یعنی ایک ہاتھ کے انگوٹھے کی جڑ کو دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے کی جڑ پر مارنا نہ اس طرح کہ تالی کی سی آواز نکلے۔

    (۵) زمین پر ہاتھ مار کر لوٹ دینا۔

    (۶) پہلے مونھ پھر ہاتھ کا مسح کرنا۔

    (۷) دونوں کا مسح پے درپے ہونا۔

    (۸) پہلے داہنے ہاتھ پھر بائیں کا مسح کرنا۔

    (۹) داڑھی کا خلال کرنا اور 

    (۱۰) انگلیوں کا خلال جب کہ غبار پہنچ گیا ہو اور اگر غبار نہ پہنچا مثلاً پتھر وغیرہ کسی ایسی چیز پر ہاتھ مارا جس پر غبار نہ ہو تو خلال فرض ہے۔ ہاتھوں کے مسح میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے علاوہ چار انگلیوں کا پیٹ داہنے ہاتھ کی پُشت پر رکھے اور انگلیوں کے سروں سے کہنی تک لے جائے اور پھر وہاں سے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے دہنے کے پیٹ کو مس کرتا ہوا گٹے تک لائے اور بائیں انگوٹھے کے پیٹ سے دہنے انگوٹھے کی پُشت کا مسح کرے یوہیں داہنے ہاتھ سے بائیں کا مسح کرے اور ایک دم سے پوری ہتھیلی اور انگلیوں سے مسح کرلیا تیمم ہو گیا خواہ کہنی سے انگلیوں کی طرف لایا یا انگلیوں سے کہنی کی طرف لے گیا مگر پہلی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۶،وغیرہ. 

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.
Flag Counter