Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
355 - 432
    مسئلہ ۵۴: عورت ناک میں پھول پہنے ہو تو نکال لے ورنہ پھول کی جگہ باقی رہ جائے گی اور نَتھ پہنے ہو جب بھی خیال رکھے کہ نَتھ کی وجہ سے کوئی جگہ باقی تو نہیں رہی۔ 

    مسئلہ ۵۵: نتھنوں کے اندر مسح کرنا کچھ درکار نہیں۔ 

    مسئلہ ۵۶: ہونٹ کا وہ حصہ جو عادۃً مونھ بند ہونے کی حالت میں دکھائی دیتا ہے اس پر بھی مسح ہو جانا ضرور ی ہے تو اگر کسی نے ہاتھ پھیرتے وقت ہونٹوں کو زور سے دبالیا کہ کچھ حصہ باقی رہ گیا تیمم نہ ہوا۔ یوہیں اگر زور سے آنکھیں بند کرلیں جب بھی تیمم نہ ہوگا۔ 

    مسئلہ ۵۷: مونچھ کے بال اتنے بڑھ گئے کہ ہونٹ چھپ گیا تو ان بالوں کو اٹھا کر ہونٹ پر ہاتھ پھیرے، بالوں پر ہاتھ پھیرنا کافی نہیں۔

    (۳) دونوں ہاتھ کا کُہنیوں سمیت مسح کرنا: اس میں بھی یہ خیال رہے کہ ذرّہ برابر باقی نہ رہے ورنہ تیمم نہ ہو گا۔ 

    مسئلہ ۵۸: انگوٹھی چھلّے پہنے ہو تو انھیں اتار کر ان کے نیچے ہاتھ پھیرنا فرض ہے۔(1) عورتوں کو اس میں بہت اِحْتِیاط کی ضرورت ہے۔ کنگن چوڑیاں جتنے زیور ہاتھ میں پہنے ہو سب کو ہٹا کر یا اتار کر جلد کے ہر حصہ پر ہاتھ پہنچائے اس کی احیتاطیں وُضو سے بڑھ کر ہیں۔ 

    مسئلہ ۵۹: تیمم میں سر اور پاؤں کا مسح نہیں۔

    مسئلہ ۶۰: ایک ہی مرتبہ ہاتھ مار کر مونھ اور ہاتھوں پرمسح کر لیا تیمم نہ ہوا ہاں اگر ایک ہاتھ سے سارے مونھ کا مسح کیا اور دوسرے سے ایک ہاتھ کا اور ایک ہاتھ جو بچ رہا اُس کے لیے پھر ہاتھ مارا اور اس پر مسح کر لیا تو ہوگیا مگر خلافِ سنّت ہے۔ (2) 

    مسئلہ ۶۱: جس کے دونوں ہاتھ یا ایک پہنچے سے کٹا ہو تو کُہنیوں تک جتنا باقی رہ گیا اُس پر مسح کرے اور اگر کُہنیوں سے اوپر تک کٹ گیا تو اسے بقیہ ہاتھ پر مسح کرنے کی ضرورت نہیں پھر بھی اگر اس جگہ پر جہاں سے کٹ گیا ہے مسح کرلے تو بہتر ہے۔ (3) 

    مسئلہ ۶۲: کوئی لنجھا ہے یا اس کے دونوں ہاتھ کٹے ہیں اور کوئی ایسا نہیں جو اسے تیمم کرا دے تو وہ اپنے ہاتھ اور رخسار جہاں تک ممکن ہو زمین یا دیوار سے مس کرے اور نماز پڑھے مگر وہ ایسی حالت میں امامت نہیں کر سکتا۔ ہاں اس جیسا کوئی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۶. 

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.
Flag Counter