کے لیے تیمم کیا ہو تو اس سے نماز جائز نہیں بلکہ جس کے لیے کیا گیا اس کے سوا کوئی عبادت بھی جائز نہیں۔ (1)
مسئلہ ۴۶: جنب نے قرآن مجید پڑھنے کے لیے تیمم کیا ہو تو اس سے نماز پڑھ سکتا ہے سجدہ شکر کی نیت سے جو تیمم کیا ہو اس سے نماز نہ ہوگی۔
مسئلہ ۴۷: دوسرے کو تیمم کا طریقہ بتانے کے لیے جو تیمم کیا اس سے بھی نماز جائز نہیں۔ (2)
مسئلہ ۴۸: نماز جنازہ یا عیدین یا سنتوں کے لیے اس غرض سے تیمم کیا ہو کہ وُضو میں مشغول ہو گا تو یہ نمازیں فوت ہو جائیں گی تو اس تیمم سے اس خاص نماز کے سوا کوئی دوسری نماز جائز نہیں۔ (3)
مسئلہ ۴۹: نماز جنازہ یا عیدین کے لیے تیمم اس وجہ سے کیا کہ بیمار تھا یا پانی موجود نہ تھا تو اس سے فرض نماز اور دیگر عبادتیں سب جائز ہیں۔
مسئلہ ۵۰: سجدہ تلاوت کے تیمم سے بھی نمازیں جائز ہیں۔ (4)
مسئلہ ۵۱: جس پر نہانا فرض ہے اسے یہ ضرور نہیں کہ غُسل اور وُضو دونوں کے لیے دوتیمم کرے بلکہ ایک ہی میں دونوں کی نیت کرلے دونوں ہو جائیں گے اور اگر صرف غُسل یا وُضو کی نیت کی جب بھی کافی ہے۔
مسئلہ ۵۲: بیمار یا بے دست و پا اپنے آپ تیمم نہیں کر سکتا تو اسے کوئی دوسرا شخص تیمم کرا دے اور اس وقت تیمم کرانے والے کی نیت کا اعتبار نہیں بلکہ اس کی نیت چاہے جسے کرایا جارہا ہے۔ (5)
(۲) سارے مونھ پر ہاتھ پھیرنا: اس طرح کہ کوئی حصہ باقی رہ نہ جائے اگر بال برابر بھی کوئی جگہ رہ گئی تیمم نہ ہوا۔ (6)
مسئلہ ۵۳: داڑھی اور مونچھوں اور بھووں کے بالوں پر ہاتھ پھر جانا ضروری ہے۔ مونھ کہاں سے کہاں تک ہے اس کو ہم نے وُضو میں بیان کر دیا بھوؤں کے نیچے اور آنکھوں کے اوپر جو جگہ ہے اور ناک کے حصہ زیریں کا خیال رکھیں کہ اگر خیال نہ رکھیں گے تو ان پر ہاتھ نہ پھرے گا اور تیمم نہ ہوگا۔ (7)