Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
353 - 432
میں آنا چاہیے۔ (1) 

    مسئلہ ۳۸: اگر کوئی ایسی جگہ ہے کہ نہ پانی ملتا ہے نہ پاک مٹی کہ تیمم کرے تو اسے چاہیے کہ وقت نماز میں نماز کی سی صورت بنائے یعنی تمام حرکات نماز بلا نیت نماز بجا لائے۔

    مسئلہ ۳۹: کوئی ایسا ہے کہ وُضو کرتا تو پیشاب کے قطرے ٹپکتے ہیں اور تیمم کرے تو نہیں تو اسے لازم ہے کہ تیمم کرے۔ (2) 

    مسئلہ ۴۰: اتنا پانی ملا جس سے وُضو ہو سکتا ہے اور اسے نہانے کی ضرورت ہے تو اس پانی سے وُضو کر لینا چاہیے اور غُسل کے لیے تیمم کرے۔ (3) 

    مسئلہ ۴۱: تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھ کی انگلیاں کشادہ کر کے کسی ایسی چیز پر جو زمین کی قسم سے ہو مار کر لوٹ لیں اور زِیادہ گرد لگ جائے تو جھاڑ لیں اور اس سے سارے مونھ کا مسح کریں پھر دوسری مرتبہ یوہیں کریں اور دونوں ہاتھوں کا ناخن سے کہنیوں سمیت مسح کریں۔ (4) 

    مسئلہ ۴۲: وُضو اور غُسل دونوں کا تیمم ایک ہی طرح ہے۔ (5) 

    مسئلہ ۴۳: تیمم میں تین فرض ہیں: 

    (۱) نیت: اگر کسی نے ہاتھ مٹی پر مار کر مونھ اور ہاتھوں پر پھیر لیا اور نیت نہ کی تیمم نہ ہوگا ۔ (6) 

    مسئلہ ۴۴: کافر نے اسلام لانے کے لیے تیمم کیا اس سے نماز جائز نہیں کہ وہ اس وقت نیت کا اہل نہ تھا بلکہ اگر قدرت پانی پر نہ ہو تو سِرے سے تیمم کرے۔ (7) 

    مسئلہ ۴۵: نماز اس تیمم سے جائز ہو گی جو پاک ہونے کی نیت یا کسی ایسی عبادت مقصودہ کے لیے کیا گیا ہو جو بلاطہارت جائز نہ ہو تو اگر مسجد میں جانے یا نکلنے یا قرآن مجید چھونے یا اذان و اقامت (یہ سب عبادت مقصود ہ نہیں) یا سلام کرنے یا سلام کا جواب دینے یا زیارت قبور یا دفن میت یا بے وُضو نے قرآن مجید پڑھنے (ان سب کے لیے طہارت شرط نہیں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب ا لطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثالث، ج۱، ص۳۰. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثالث، ج۱، ص۳۱. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی التاتارخانیۃ''، کتاب الطہارۃ، الفصل الخامس في التیمم، ج۱، ص۲۵۵. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثالث، ج۱، ص۳۰. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ص۲۸. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۳۷۳. 

7۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۶.
Flag Counter