مسئلہ ۳۱: مسجد میں سویا تھا اور نہانے کی ضرورت ہوگئی تو آنکھ کھلتے ہی جہاں سویا تھا وہیں فوراً تیمم کر کے نکل آئے(1) تاخیرحرام ہے۔ (2)
مسئلہ ۳۲: قرآن مجید چھونے کے لیے یا سجدہ تلاوت یا سجدہ شکر کے لیے تیمم جائز نہیں جب کہ پانی پر قدرت ہو۔ (3)
مسئلہ ۳۳: وقت اتنا تنگ ہو گیا کہ وُضو یا غُسل کریگا تو نماز قضا ہو جائے گی تو چاہیے کہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے پھر وُضو یا غُسل کر کے اعادہ کرنا لازم ہے۔ (4)
مسئلہ ۳۴: عورت حَیض و نِفاس سے پاک ہوئی اور پانی پر قادر نہیں تو تیمم کرے۔ (5)
مسئلہ ۳۵: مُردے کواگر غُسل نہ دے سکیں خواہ اس وجہ سے کہ پانی نہیں یا اس وجہ سے کہ اُس کے بدن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں جیسے اجنبی عورت یا اپنی عورت کہ مرنے کے بعد اسے چھو نہیں سکتا تو اسے تیمم کرایا جائے، غیر محرم کو اگرچہ شوہر ہو عورت کو تیمم کرانے میں کپڑا حائل ہونا چاہیے۔ (6)
مسئلہ ۳۶: جنب اور حائض اور میّت اور بے وُضو یہ سب ایک جگہ ہیں اور کسی نے اتنا پانی جو غُسل کے لیے کافی ہے لاکر کہا جو چاہے خرچ کرے تو بہتر یہ ہے کہ جنب اس سے نہائے اور مردے کو تیمم کرایا جائے اور دوسرے بھی تیمم کریں اور اگر کہا کہ اس میں تم سب کا حصہ ہے اور ہر ایک کو اس میں اتنا حصہ ملا جو اس کے کام کے لیے پورا نہیں تو چاہیے کہ مُردے کے غُسل کے لیے اپنا اپنا حصہ دے دیں اور سب تیمم کریں۔ (7)
مسئلہ ۳۷: دو شخص باپ بیٹے ہیں اور کسی نے اتنا پانی دیا کہ اس سے ایک کا وُضو ہو سکتا ہے تو وہ پانی باپ کے صرف