مسئلہ ۲۶: وُضو میں مشغول ہو گا تو ظہر یا مغرب یا عشاء یا جمعہ کی پچھلی سُنّتوں کا یا نماز چاشت (1) کا وقت جاتا رہے گا تو تیمم کرکے پڑھ لے۔ (2)
(۱۰) غیر ولی کو نماز جنازہ فوت ہو جانے کا خوف ہو تو تیمم جائز ہے ولی کو نہیں کہ اس کا لوگ انتظار کریں گے اور لوگ بے اس کی اجازت کے پڑھ بھی لیں تو یہ دوبارہ پڑھ سکتا ہے۔ (3)
مسئلہ ۲۷: ولی نے جس کو نماز پڑھانے کی اجازت دی ہو اسے تیمم جائز نہیں اور ولی کو اس صورت میں اگر نماز فوت ہونے کا خوف ہو تو تیمم جائز ہے۔ یوہیں اگر دوسرا ولی اس سے بڑھ کر موجود ہے تو اس کے لیے تیمم جائز ہے۔ خوف فوت کے یہ معنی ہیں کہ چاروں تکبیریں جاتی رہنے کا اندیشہ ہو اور اگر یہ معلوم ہو کہ ایک تکبیر بھی مل جائے گی تو تیمم جائز نہیں۔ (4)
مسئلہ ۲۸: ایک جنازہ کے لیے تیمم کیا اور نماز پڑھی پھر دوسرا جنازہ آیا اگر درمیان میں اتنا وقت ملا کہ وُضو کرتا تو کر لیتا مگر نہ کیا اور اب وُضو کرے تو نماز ہو چکے گی تو اس کے لیے اب دوبارہ تیمم کرے اور اگر اتنا وقفہ نہ ہو کہ وُضو کر سکے تو وہی پہلا تیمم کافی ہے۔ (5)
مسئلہ ۲۹: سلام کا جواب دینے یا درود شریف وغیرہ وظائف پڑھنے یا سونے یا بے وُضو کو مسجد میں جانے یا زبانی قرآن پڑھنے کے لیے تیمم جائز ہے اگرچہ پانی پر قدرت ہو۔
مسئلہ ۳۰: جس پر نہانا فرض ہے اسے بغیر ضرورت مسجد میں جانے کے لیے تیمم جائز نہیں ہاں اگر مجبوری ہو جیسے ڈول رسّی مسجد میں ہو اور کوئی ایسا نہیں جو لا دے تو تیمم کر کے جائے اور جلد سے جلد لے کر نکل آئے۔ (6)