Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
339 - 432
    مسئلہ ۳۱: جس کوئیں کا پانی ناپاک ہو گیا اس میں سے جتنا پانی نکالنے کا حکم ہے نکال لیا گیا تو اب وہ رسی ڈول جس سے پانی نکالا ہے پاک ہو گیا، دھونے کی ضرورت نہیں۔ (1) 

    مسئلہ ۳۲: کل پانی نکالنے کے یہ معنی ہیں کہ اتنا پانی نکال لیا جائے کہ اب ڈول ڈالیں تو آدھا بھی نہ بَھرے، اس کی مٹی نکالنے کی ضرورت نہیں نہ دیوار دھونے کی حاجت، کہ وہ پاک ہوگئی۔ (2) 

    مسئلہ ۳۳: یہ جو حکم دیا گیا ہے کہ اتنااتنا پانی نکالا جائے اس کایہ مطلب ہے کہ وہ چیزجو اس میں گری ہے اس کو اس میں سے نکال لیں پھر اتنا پانی نکالیں، اگر وہ اسی میں پڑی رہی تو کتنا ہی پانی نکالیں، بیکار ہے۔ (3) 

    مسئلہ ۳۴: اور اگر وہ سڑگل کر مٹی ہو گئی یا وہ چیز خود نجس نہ تھی بلکہ کسی نجس چیز کے لگنے سے نجس ہو گئی ہو، جیسے نجس کپڑا، اور اس کا نکالنا مشکل ہوتو اب فقط پانی نکالنے سے پاک ہو جائے گا۔ (4) 

    مسئلہ ۳۵: جس کوئیں کا ڈول مُعیّن ہو تو اسی کا اعتبار ہے اس کے چھوٹے بڑے ہونے کا کچھ لحاظ نہیں اور اگر اس کا کوئی خاص ڈول نہ ہو تو ایسا ہو کہ ایک صاع پانی اس میں آجائے۔ (5) 

    مسئلہ ۳۶: ڈول بھرا ہوا نکلنا ضرور نہیں، اگر کچھ پانی چَھلک کر گر گیا یا ٹپک گیا مگر جتنا بچا وہ آدھے سے زِیادہ ہے تو وہ پورا ہی ڈول شمار کیا جائے گا۔ (6) 

    مسئلہ ۳۷: ڈول معین ہے مگر جس ڈول سے پانی نکالا وہ اس سے چھوٹا یا بڑا ہے یا ڈول معین نہیں اور جس سے نکالا وہ ایک صاع سے کم و بیش ہے تو ان صورتوں میں حساب کرکے اس معین یا ایک صاع کے برابر کر لیں۔ (7) 

    مسئلہ ۳۸: کوئیں سے مرا ہوا جانور نکلا تو اگر اس کے گرنے مرنے کا وقت معلوم ہے تو اسی وقت سے پانی نجس ہے اس کے بعد اگر کسی نے اس سے وُضو یا غُسل کیا تو نہ وُضو ہوا نہ غُسل، اس وُضو اورغُسل سے جتنی نمازیں پڑھیں سب کو پھیرے کہ وہ نمازیں نہیں ہوئیں، یوہیں اس پانی سے کپڑے دھوئے یا کسی اور طریق سے اس کے بدن یا کپڑے میں لگا تو کپڑے اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۰۹. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۰۹. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۹. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۰۹. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۲۶۱. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۱۷. 

7۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۱۶.
Flag Counter