بدن کا پاک کرنا ضروری ہے اور ان سے جو نمازیں پڑھیں ان کا پھیرنا فرض ہے اور اگر وقت معلوم نہیں تو جس وقت دیکھا گیاا س وقت سے نجس قرار پائے گا۔ اگرچہ پھولا پھٹا ہو اس سے قبل پانی نجس نہیں اور پہلے جو وُضو یا غُسل کیا یا کپڑے دھوئے کچھ حَرَج نہیں تیسیراً اسی پر عمل ہے۔ (1)
مسئلہ ۳۹: جو کو آں ایسا ہو کہ اس کا پانی ٹوٹتا ہی نہیں چاہے کتنا ہی نکالیں اور اس میں نَجاست پڑ گئی یا اس میں کوئی ایسا جانور مر گیا جس میں کُل پانی نکالنے کا حکم ہے تو ایسی حالت میں حکم یہ ہے کہ معلوم کر لیں کہ اس میں کتنا پانی ہے وہ سب نکال لیا جائے۔ نکالتے وقت جتنا زیادہ ہوتا گیا اس کا کچھ لحاظ نہیں اور یہ معلوم کر لینا کہ اس وقت کتنا پانی ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ دو مسلمان پرہیزگار جن کو یہ مہارت ہو کہ پانی کی چوڑائی گہرائی دیکھ کر بتا سکیں کہ اس کوئیں میں اتنا پانی ہے وہ جتنے ڈول بتائیں اتنے نکالے جائیں اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس پانی کی گہرائی کسی لکڑی یا رسّی سے صحیح طور پر ناپ لیں اور چند شخص بہت پھرتی سے سو ۱۰۰ ڈول مثلاً نکالیں پھر پانی ناپیں جتنا کم ہو اسی حساب سے پانی نکال لیں کو آں پاک ہو جائے گا۔ اسکی مثال یہ ہے کہ پہلی مرتبہ ناپنے سے معلوم ہوا کہ پانی مثلاً دس ہاتھ ہے پھر سو ۱۰۰ ڈول نکالنے کے بعد ناپا تو نو ۹ ہاتھ رہا تو معلوم ہوا کہ سو ۱۰۰ ڈول میں ایک ہاتھ کم ہوا تو دس ۱۰ ہاتھ میں دس سو ۱۰۰۰ یعنی ایک ہزار ڈول ہوئے۔ (2)
مسئلہ ۴۰: جو کو آں ایسا ہے کہ اس کا پانی ٹوٹ جائے گا مگر اس میں اس کے پھٹ جانے وغیرہ نقصانات کا گما ن ہے تو بھی اتنا ہی پانی نکالا جائے جتنا اس وقت اس میں موجود ہے۔ پانی توڑنے کی حاجت نہیں۔
مسئلہ ۴۱: کوئیں سے جتنا پانی نکالنا ہے اس میں اختیار ہے کہ ایک دم سے اتنا نکالیں یا تھوڑا تھوڑا کر کے دونوں صورت میں پاک ہو جائے گا۔ (3)
مسئلہ ۴۲: مرغی کا تازہ انڈا جس پر ہنوز رطوبت لگی ہو پانی میں پڑ جائے تو نجس نہ ہو گا۔ یوہیں بکری کا بچہ پیدا ہوتے ہی پانی میں گرا اور مرا نہیں جب بھی ناپاک نہ ہو گا۔ (4)