مسئلہ ۲۳: کوئیں میں وہ جانور گرا جس کا جھوٹا پاک ہے یا مکروہ اور پانی کچھ نہ نکالا اور وُضو کر لیا تو وُضو ہوجائے گا۔ (1)
مسئلہ ۲۴: جوتا یا گیند کوئیں میں گر گئی اور نجس ہونا یقینی ہے کُل پانی نکالا جائے ورنہ بیس ۲۰ ڈول،محض نجس ہونے کا خیال معتبر نہیں۔ (2)
مسئلہ ۲۵: پانی کا جانور یعنی وہ جوپانی میں پیدا ہوتا ہے اگر کوئیں میں مر جائے یا مرا ہوا گر جائے تو ناپاک نہ ہو گا۔ اگرچہ پھولا پھٹا ہو مگر پھٹ کر اس کے اجزا پانی میں مل گئے تو اس کا پینا حرام ہے۔ (3)
مسئلہ ۲۶: خشکی اور پانی کے مینڈک کا ایک حکم ہے یعنی اس کے مرنے بلکہ سڑنے سے بھی پانی نجس نہ ہوگا (4)، مگر جنگل کا بڑا مینڈک جس میں بہنے کے قابل خون ہوتا ہے اس کا حکم چوہے کی مثل ہے۔ پانی کے مینڈک کی انگلیوں کے درمیان جھلی ہوتی ہے اور خشکی کے نہیں۔
مسئلہ ۲۷: جس کی پیدائش پانی کی نہ ہو مگر پانی میں رہتا ہو جیسے بط، اس کے مر جانے سے پانی نجس ہو جائے گا۔ (5)
مسئلہ ۲۸: بچّہ یا کافر نے پانی میں ہاتھ ڈال دیا تو اگر ان کے ہاتھ کا نجس ہونا معلوم ہے جب تو ظاہر ہے کہ پانی نجس ہو گیا ورنہ نجس تو نہ ہوا مگر دوسرے پانی سے وُضو کرنا بہتر ہے۔ (6)
مسئلہ ۲۹: جن جانوروں میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا جیسے مچھر، مکھی وغیرہ، ان کے مرنے سے پانی نجس نہ ہوگا۔ (7)
فائدہ: مکھی سالن وغیرہ میں گر جائے تو اسے غوطہ دے کر پھینک دیں اور سالن کو کا م میں لائیں۔
مسئلہ ۳۰: مردار کی ہڈّی جس میں گوشت یا چکنائی لگی ہو پانی میں گر جائے تو وہ پانی ناپاک ہو گیا کل نکالا جائے اور اگر گوشت یا چکنائی نہ لگی ہو تو پاک ہے مگر سُوئر کی ہڈّی سے مطلقاً ناپاک ہو جائے گا۔ (8)