بدن پرخون نہ لگا ہو تو بھی کچھ حاجت نہیں اور اگر خون لگا ہے اور قابل بہنے کے نہ تھا تو بھی کچھ حاجت نہیں،اگرچہ وہ خون اس کے بدن پر سے دُھل کر پانی میں مِل جائے اور اگربہنے کے قابل خون اس کے بدن پر لگا ہوا ہے اور خشک ہو گیا اور شہید کے گرنے سے اس کے بدن سے جدا ہو کرپانی میں نہ ملا جب بھی پانی پاک رہے گا کہ شہید کا خون جب تک اس کے بدن پر ہے کتناہی ہو پاک ہے ہاں یہ خون اس کے بدن سے جدا ہو کر پانی میں مِل گیا تو اب ناپاک ہوگیا۔ (1)
مسئلہ ۱۸: کافر مردہ اگرچہ سو ۱۰۰ بار دھویا گیا ہو، کوئیں میں گر جائے یا اس کی انگلی یا ناخن پانی سے لگ جائے پانی نجس ہو جائے گا، کل پانی نکالا جائے۔ (2)
مسئلہ ۱۹: کچا بچہ یاجو بچہ مردہ پیدا ہوا، کوئیں میں گر جائے تو سب پانی نکالا جائے اگرچہ گرنے سے پہلے نہلا دیا گیا ہو۔ (3)
مسئلہ ۲۰: بے وُضو اور جس شخص پر غُسل فرض ہو اگر بلا ضرورت کوئیں میں اُتریں اور اُن کے بدن پر نَجاست نہ لگی ہو تو بیس ڈول نکالا جائے اور اگر ڈول نکالنے کے لیے اُترا توکچھ نہیں۔ (4)
مسئلہ ۲۱: سوئر کوئیں میں گر ا،اگرچہ نہ مرے، پانی نجس ہو گیا، کل نکالا جائے۔ (5)
مسئلہ ۲۲: سوئر کے سوااگر اور کوئی جانور کوئیں میں گرا اور زندہ نکل آیا اور اس کے جِسْم میں نَجاست لگی ہونایقینی معلوم نہ ہو، اور پانی میں اس کا مونھ نہ پڑا تو پانی پاک ہے، اس کا استعمال جائز، مگر اِحْتِیاطاً بیس ۲۰ ڈول نکالنا بہترہے اوراگراس کے بدن پر نَجاست لگی ہونا یقینی معلوم ہو تو کل پانی نکالا جائے اور اگر اس کا مونھ پانی میں پڑا تو اس کے لُعاب اور جھوٹے کا جو حکم ہے وہی حکم اس پانی کا ہے، اگر جھوٹا ناپاک ہے یا مشکوک تو کل پانی نکالا جائے اور اگر مکروہ ہے تو چوہے وغیرہ میں بیس ۲۰ ڈول، مرغی چھوٹی ہوئی میں چالیس ۴۰ اور جس کا جھوٹا پاک ہے اس میں بھی بیس ۲۰ ڈول نکالنا بہتر ہے، مثلاً بکری گری اور زندہ نکل آئی، بیس ۲۰ ڈول نکال ڈالیں۔ (6)