مسئلہ ۷: مرغا، مرغی، بلّی، چوہا، چھپکلی یا اَور کوئی دَموی جانور (جس میں بہتا ہوا خون ہو) اس میں مر کر پُھول جائے یا پھٹ جائے کل پانی نکالا جائے۔ (1)
مسئلہ ۸: اگر یہ سب باہر مرے پھر کوئیں میں گر گئے جب بھی یہی حکم ہے۔ (2)
مسئلہ ۹: چھپکلی یا چوہے کی دُم کٹ کر کوئیں میں گری، اگرچہ پھولی پھٹی نہ ہو کل پانی نکالا جائے گا، مگراس کی جڑ میں اگر موم لگا ہو تو بیس ڈول نکالا جائے۔ (3)
مسئلہ ۱۰: بلّی نے چوہے کو دبوچا اور زخمی ہو گیا پھر اس سے چھوٹ کر کوئیں میں گِرا کل پانی نکالا جائے۔ (4)
مسئلہ ۱۱: چوہا، چھچوندر، چڑیا، یاچھپکلی، گرگٹ یا ان کے برابر یا ان سے چھوٹا کوئی جانور دَموی کوئیں میں گر کر مر گیا تو بیس ۲۰ ڈول سے تیس ۳۰ تک نکالا جائے۔ (5)
مسئلہ ۱۲: کبوتر، مرغی، بلّی گِر کر مرے تو چالیس ۴۰ سے ساٹھ ۶۰ تک۔ (6)
مسئلہ ۱۳: آدمی کا بچہ، جو زندہ پیدا ہو، حکم میں آدمی کے ہے، بکری کا چھوٹا بچہ حکم میں بکری کے ہے۔ (7)
مسئلہ ۱۴: جو جانور کبوتر سے چھوٹا ہو حکم میں چوہے کے ہے، اور جو بکری سے چھوٹا ہو مرغی کے حکم میں ہے۔ (8)
مسئلہ ۱۵: دو چوہے گر کر مر جائیں تو وہی بیس ۲۰ سے تیس ۳۰ ڈول تک نکالا جائے اور تین یا چار یا پانچ ہوں تو چالیس ۴۰ سے ساٹھ ۶۰ تک اور چھ ۶ ہوں تو کُل۔ (9)
مسئلہ ۱۶: دو ۲ بلّیاں مر جائیں تو سب نکالا جائے۔ (10)
مسئلہ ۱۷: مسلمان مردہ بعد غُسل کے کوئیں میں گر جائے تو اصلاً پانی نکالنے کی ضرورت نہیں اور شہید گر جائے اور