اگر ایسا حوض لبریز ہو اور نَجاست پڑے توناپاک ہے پھر اُس کا پانی گَھٹ گیا اور وہ دَہ در دَہ ہو گیا تو پاک ہوگیا۔ (1)
مسئلہ ۲۰: حُقّہ کا پانی پاک ہے (2) اگرچہ اس کے رنگ، و بُو، و مزے میں تغیر آجائے اس سے وُضو جائز ہے۔ بقدرِ(3) کفایت اس کے ہوتے ہوئے تیمم جائز نہیں۔ (4)
مسئلہ ۲۱: جو پانی وُضو یاغُسل کرنے میں بدن سے گرا وہ پاک ہے مگر اس سے وُضو اور غُسل جائز نہیں۔ یوہیں اگر بے وُضو شخص کا ہاتھ یا انگلی یا پَورایا ناخن یا بدن کا کوئی ٹکڑا جو وُضو میں دھویا جاتا ہو بقصد یا بلا قصد دَہ در دَہ سے کم پانی میں بے دھوئے ہوئے پڑ جائے تو وہ پانی وُضو اور غُسل کے لائق نہ رہا۔ اسی طرح جس شخص پر نہانا فرض ہے اس کے جِسْم کا کوئی بے دُھلاہوا حصہ پانی سے چھو جائے تو وہ پانی وُضو اور غُسل کے کام کانہ رہا۔ اگر دُھلا ہوا ہاتھ یا بدن کا کوئی حصہ پڑ جائے تو حَرَج نہیں۔ (5)
مسئلہ ۲۲: اگر ہاتھ دھلا ہوا ہے مگر پھر دھونے کی نیت سے ڈالا اور یہ دھونا ثواب کا کام ہوجیسے کھانے کے لیے یا و ضو کے لیے تو یہ پانی مُستَعمَل ہو گیا یعنی وُضو کے کام کا نہ رہا اور اس کو پینا بھی مکروہ ہے۔
مسئلہ ۲۳: اگر بضرورت ہاتھ پانی میں ڈالا جیسے پانی بڑے برتن میں ہے کہ اسے جھکا نہیں سکتا، نہ کوئی چھوٹا برتن ہے کہ اس سے نکالے تو ایسی صورت میں بقدرِ ضرورت ہاتھ پانی میں ڈال کر اس سے پانی نکالے یا کوئیں میں رسّی ڈول گِر گیا اور بے گُھسے نہیں نکل سکتا اَور پانی بھی نہیں کہ ہاتھ پاؤ ں دھو کر گُھسے، تو اس صورت میں اگر پاؤں ڈال کر ڈول رسّی نکالے گا مُستَعمَل نہ ہوگا ان مسئلوں سے بہت کم لوگ واقف ہیں خیال رکھنا چاہیے۔ (6)