مسئلہ ۲۴: مستعمل پانی اگر اچھے پانی میں مل جائے مثلاً وُضو یا غُسل کرتے وقت قطرے لوٹے یا گھڑے میں ٹپکے، تواگر اچھا پانی زِیادہ ہے تویہ وُضو اورغُسل کے کام کا ہے ورنہ سب بے کا ر ہوگیا۔ (1)
مسئلہ ۲۵: پانی میں ہاتھ پڑگیایا اَور کسی طرح مستعمل ہو گیا اور یہ چاہیں کہ یہ کام کا ہو جائے تو اچھا پانی اس سے زِیادہ اس میں مِلادیں، نیز اس کا یہ طریقہ بھی ہے کہ اس میں ایک طرف سے پانی ڈالیں کہ دوسری طرف سے بہ جائے سب کام کا ہو جائے گا۔یوہیں ناپاک پانی کو بھی پاک کر سکتے ہیں۔ (2) یوہیں ہر بہتی ہوئی چیز اپنی جنس یا پانی سے اُبال دینے سے پاک ہو جائے گی۔
مسئلہ ۲۶: کسی درخت یا پھل کے نچوڑے ہوئے پانی سے وُضو جائز نہیں جیسے کیلے کا پانی یا انگور اور انار اور تربُز کا پانی اور گنّے کا رس۔ (3)
مسئلہ ۲۷: جو پانی گرم ملک میں گرم موسم میں سونے چاندی کے سوا کسی اور دھات کے برتن میں دھوپ میں گرم ہو گیا، تو جب تک گرم ہے اس سے وُضو اور غُسل نہ چاہیے، نہ اس کو پینا چاہیے بلکہ بدن کو کسی طرح پہنچنا نہ چاہیے، یہاں تک کہ اگر اس سے کپڑ ا بھیگ جائے تو جب تک ٹھنڈا نہ ہو لے اس کے پہننے سے بچیں کہ اس پانی کے استعمال میں اندیشہ ئبرص ہے پھر بھی اگر وُضو یا غُسل کر لیا تو ہو جائے گا۔ (4)
مسئلہ ۲۸: چھوٹے چھوٹے گڑھوں میں پانی ہے اور اس میں نَجاست پڑنا معلوم نہیں تو اس سے وُضو جائز ہے۔ (5)
مسئلہ ۲۹: کافر کی خبر کہ یہ پانی پاک ہے یاناپاک مانی نہ جائے گی، دونوں صورتوں میں پاک رہے گا کہ یہ اس کی اصلی حالت ہے۔ (6)
مسئلہ ۳۰: نابالغ کا بھرا ہوا پانی کہ شرعاً اس کی مِلک ہو جائے، اسے پینا یا وُضو یا غُسل یا کسی کام میں لانا اس کے ماں باپ یا جس کا وہ نوکر ہے اس کے سوا کسی کو جائز نہیں اگرچہ وہ اجازت بھی دے دے، اگر وُضو کر لیا تو وُضو ہو جائے گا اور گنہگار ہو گا، یہاں سے مُعلّمین کو سبق لینا چاہیے کہ اکثر وہ نابالغ بچوں سے پانی بھروا کر اپنے کام میں لایا کرتے ہیں۔ اسی طرح بالغ کا