یعنی آسمان سے ہم نے پاک کرنے والا پانی اُتارا۔
اور فرماتا ہے:
( وَیُنَزِّلُ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَہِّرَکُمۡ بِہٖ وَیُذْہِبَ عَنۡکُمْ رِجْزَ الشَّیۡطٰنِ ) ـ4ـ
یعنی آسمان سے تم پر پانی اُتارتا ہے کہ تمھیں اس سے پاک کرے اور شیطان کی پلیدی تم سے دور کرے۔
حدیث ۱: امام مسلِم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: '' تم میں کوئی شخص حالتِ جنابت میں رُکے ہوئے پانی میں نہ نہائے'' (یعنی تھوڑے پانی میں جو دَہ در دَہ نہ ہو کہ دَہ در دَہ بہتے پانی کے حکم میں ہے) لوگوں نے کہا تَو اے ابوہریرہ! کیسے کرے ؟ کہا :''اس میں سے لے لے۔'' (5)
حدیث ۲: سُنَن ابو داود و تِرمذی و ابنِ ماجہ میں حکم بن عمر ورضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے منع فرمایا اس سے کہ عورت کی طہارت سے بچے ہوئے پانی سے مرد وُضو کرے۔ (6)
حدیث ۳: اِمام مالِک و ابو داود و تِرمذی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، المرجع السابق، و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس، ج۵، ص۳۲۴.
2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: یطلق الدعاء... إلخ، ج۱، ص۳۵۵،۳۵۶.
3۔۔۔۔۔۔ پ:۱۹، الفرقان:۴۸.
4۔۔۔۔۔۔ پ:۹، الانفال:۱۱.
5۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الطھارۃ، باب النھی عن الإغتسال فيالماء الراکد، الحدیث: ۲۸۳، ص۱۶۴.
6۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب النھی عن ذلک، الحدیث: ۸۲، ج۱، ص ۶۳.