مسئلہ ۳۶: رُوپیہ پر آیت لکھی ہو تو ان سب کو (یعنی بے وُضو اور جنب اور حَیض و نِفاس والی کو) اس کا چھونا حرام ہے ہاں اگر تھیلی میں ہوتو تھیلی اٹھانا جائز ہے۔یوہیں جس برتن یا گلاس پر سورہ یا آیت لکھی ہو اس کا چھونا بھی ان کو حرام ہے اور اس کا استعمال سب کو مکروہ مگر جبکہ خاص بہ نیتِ شفا ہو۔
مسئلہ ۳۷: قرآن کا ترجمہ فارسی یا اردو یا کسی اور زبان میں ہو اس کے بھی چھونے اور پڑھنے میں قرآنِ مجید ہی کا سا حکم ہے۔
مسئلہ ۳۸: قرآنِ مجید دیکھنے میں ان سب پر کچھ حَرَج نہیں اگرچہ حروف پر نظر پڑے اور الفاظ سمجھ میں آئیں اور خیال میں پڑھتے جائیں۔
مسئلہ ۳۹: ان سب کو فقہ و تفسیر وحدیث کی کتابوں کا چھونا مکروہ ہے اور اگر ان کو کسی کپڑے سے چُھوا اگرچہ اس کو پہنے یا اوڑھے ہوئے ہو تو حَرَج نہیں مگر مَوضَعِ آیت پر ان کتابوں میں بھی ہاتھ رکھنا حرام ہے۔
مسئلہ ۴۰: ان سب کو تورٰت، زبور، انجیل کو پڑھنا چھونا مکروہ ہے۔ (1)
مسئلہ ۴۱: درود شریف اور دعاؤں کے پڑھنے میں انھیں حَرَج نہیں مگر بہتر یہ ہے کہ وُضو یا کُلی کر کے پڑھیں۔ (2)
مسئلہ ۴۲: ان سب کو اذان کا جواب دینا جائز ہے۔ (3)
مسئلہ ۴۳: مصحف شریف اگر ایسا ہو جائے کہ پڑھنے کے کام میں نہ آئے تو اسے کَفنا کر لحد کھود کر ایسی جگہ دفن کر دیں جہاں پاؤں پڑنے کا احتمال نہ ہو۔ (4)
مسئلہ ۴۴: کافر کو مصحف چُھونے نہ دیا جائے بلکہ مطلقاً حروف اس سے بچائیں۔ (5)
مسئلہ ۴۵: قرآن سب کتابوں کے اوپر رکھیں، پھر تفسیر، پھر حدیث، پھر باقی دینیات، علیٰ حسبِ مراتب۔ (6)