| بہارِشریعت حصّہ دوم (2) |
سے پوچھا ہم دریا کا سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی لے جاتے ہیں توا گر اس سے وُضو کریں پیاسے رہ جائیں، تو کیا سمندر کے پانی سے ہم وُضو کریں۔ فرمایا :'' اس کا پانی پاک ہے اور اس کا جانور مرا ہوا حلال'' (1) یعنی مچھلی۔
حدیث ۴: امیر المومنین فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ : ''دھوپ کے گرم پانی سے غُسل نہ کرو کہ وہ برص پیدا کرتا ہے۔ (2)کس پانی سے وُضو جائز ہے اور کس سے نہیں
تنبیہ : جس پانی سے وُضو جائز ہے اس سے غُسل بھی جائز اور جس سے وُضو ناجائز غُسل بھی ناجائز۔
مسئلہ ۱ : مینھ، ندی، نالے، چشمے، سمندر، دریا، کوئیں اور برف، اولے کے پانی سے وُضو جائز ہے۔ (3)
مسئلہ ۲: جس پانی میں کوئی چیز مل گئی کہ بول چال میں اسے پانی نہ کہیں بلکہ اس کا کوئی اَور نام ہو گیا جیسے شربت، یا پانی میں کوئی ایسی چیز ڈال کر پکائیں جس سے مقصود میل کاٹنا نہ ہو جیسے شوربا، چائے، گلاب یااور عرق، اس سے وُضو و غُسل جائز نہیں۔ (4)
مسئلہ ۳ : اگر ایسی چیز ملائیں یا ملا کر پکائیں جس سے مقصود میل کاٹنا ہو جیسے صابون یا بیری کے پتے تو وُضو جائزہے جب تک اس کی رقت زائل نہ کر دے اور اگر ستُّو کی مثل گاڑھا ہو گیا تو وُضو جائز نہیں۔ (5)
مسئلہ ۴ : اور اگر کوئی پاک چیز ملی جس سے رنگ یا بویا مزے میں فرق آگیا مگر اس کا پتلا پَن نہ گیا جیسے ریتا، چونا یا تھوڑی زعفران تو وُضو جائز ہے اور جو زعفران کا رنگ اتنا آجائے کہ کپڑا رنگنے کے قابل ہو جائے تو وُضو جائز نہیں۔ یوہیں پڑیا کا رنگ اور اگر اتنا دودھ مل گیا کہ دودھ کا رنگ غالب نہ ہوا تو وُضو جائز ہے ورنہ نہیں۔ غالب مغلوب کی پہچان یہ ہے کہ جب تک یہ کہیں کہ پانی ہے جس میں کچھ دودھ مل گیا تو وُضو جائز ہے اور جب اسے لسّی کہیں تو وُضو جائز نہیں اور اگر پتے گرنے یا پُرانے ہونے کے سبب بدلے تو کچھ حَرَج نہیں مگر جب کہ پتے اسے گاڑھا کر دیں۔ (6)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجا ء فيماء البحر أنہ طھور، الحدیث: ۶۹، ج۱، ص۱۳۰. 2۔۔۔۔۔۔ ''سنن الدار قطني''،کتاب الطھارۃ، باب الماء السخن، الحدیث: ۸۵، ج ۱، ص ۵۴. 3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، ج۱، ص۳۵۷. 4۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، مطلب في حدیث ((لا تسموا العنب الکرم))، ج۱، ص۳۶۰. 5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، المرجع السابق، ص۳۸۵. 6۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، مطلب في أن التوضی من العوض... إلخ، ج۱، ص۳۶۹.