Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
324 - 432
    فائدہ: ان تینوں وجوہ سے جس پر نہانا فرض ہو اس کو جنب اور ان اسباب کو جنابت کہتے ہیں۔ 

    (۴) حَیض سے فارغ ہونا۔ (1) 

    (۵) نِفاس کا ختم ہونا۔ (2) 

    مسئلہ ۲۰: بچہ پیدا ہوا اور خون بالکل نہ آیا تو صحیح یہ ہے کہ غُسل واجب ہے۔ (3) حَیض و نِفاس کی کافی تفصیل ان شاء اﷲ الجلیل حَیض کے بیان میں آئے گی۔ 

    مسئلہ ۲۱: کافر مرد یا عورت جنب ہے یا حَیض و نِفاس والی کافرہ عورت اب مسلمان ہوئی اگرچہ اسلام سے پہلے حَیض و نِفاس سے فراغت ہو چکی، صحیح یہ ہے کہ ان پر غُسل واجب ہے۔ ہاں اگر اسلام لانے سے پہلے غُسل کر چکے ہوں یا کسی طرح تمام بدن پر پانی بہ گیا ہو تو صرف ناک میں نَرْم بانسے تک پانی چڑھانا کافی ہو گا کہ یہی وہ چیز ہے جو کفار سے ادا نہیں ہوتی۔ پانی کے بڑے بڑے گھونٹ پینے سے کُلّی کا فرض ادا ہو جاتا ہے اور اگر یہ بھی باقی رہ گیاہو تو اسے بھی بجالائیں غرض جتنے اعضا کا دھلنا غُسل میں فرض ہے جماع وغیرہ اسباب کے بعد اگر وہ سب بحالتِ کفر ہی دُھل چکے تھے تو بعد اسلام اعادہ غُسل ضرور نہیں، ورنہ جتنا حصہ باقی ہو اتنے کا دھولینا فرض ہے اور مستحب تو یہ ہے کہ بعد اسلام پورا غُسل کرے۔ 

    مسئلہ ۲۲: مسلمان میت کو نہلانا مسلمانوں پر فرضِ کفایہ ہے، اگر ایک نے نہلا دیا سب کے سر سے اُتر گیا اور اگر کسی نے نہیں نہلایا سب گنہگار ہوں گے۔ (4) 

    مسئلہ ۲۳: پانی میں مسلمان کا مُردہ ملا اس کا بھی نہلانا فرض ہے، پھر اگر نکالنے والے نے غُسل کے ارادہ سے نکالتے وقت اس کو غوطہ دے دیا غُسل ہو گیا ورنہ اب نہلائیں۔ (5) 

    مسئلہ ۲۴: جمعہ، عید، بقرعید، عرفہ کے دن اور احرام باندھتے وقت نہانا سنّت ہے اور وقوفِ عرفات و وقوفِ مزدلفہ و حاضریئ حرم و حاضریئ سرکا رِ اعظم و طواف ودُخولِ منیٰ اور جَمروں پر کنکریاں مارنے کے لیے تینوں دن اور شبِ برات اور شبِ قدر اور عَرفہ کی رات اور مجلسِ میلاد شریف اور دِیگر مجالسِ خیر کی حاضری کے لیے اور مردہ نہلانے کے بعد اور مجنون کو جنون جانے کے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۳۳۴. 

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثاني في الغسل، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۶. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في رطوبۃ الفرج، ج۱، ص۳۳۷. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۵۸.
Flag Counter