بعد اور غشی سے افاقہ کے بعد اور نشہ جاتے رہنے کے بعد اور گناہ سے توبہ کرنے اور نیا کپڑا پہننے کے لیے اور سفر سے آنے والے کے لیے، استحاضہ کا خون بند ہونے کے بعد، نماز کسوف و خسوف و اِسْتِسقاء اور خوف و تاریکی اور سَخْت آندھی کے لیے اور بدن پر نَجاست لگی اور یہ معلوم نہ ہوا کہ کس جگہ ہے ان سب کے لیے غُسل مستحب ہے۔ (1)
مسئلہ ۲۵: حج کرنے والے پر دسویں ذی الحجہ کو پانچ غُسل ہیں :
(۱) وقوفِ مزدلفہ۔
(۲) دخول منیٰ۔
(۳) جمرہ پر کنکریاں مارنا۔
(۴) دخولِ مکّہ۔
(۵)طواف، جب کہ یہ تین پچھلی باتیں بھی دسویں ہی کو کرے اور جمعہ کا دن ہے تو غُسلِ جمعہ بھی۔ یوہیں اگر عرفہ یا عید جمعہ کے دن پڑے تو یہاں والوں پر دو غُسل ہوں گے۔ (2)
مسئلہ ۲۶: جس پر چند غُسل ہوں سب کی نیت سے ایک غُسل کرلیا سب ادا ہوگئے سب کا ثواب ملے گا۔
مسئلہ ۲۷: عورت جنب ہوئی اور ابھی غُسل نہیں کیا تھا کہ حَیض شروع ہو گیا تو چاہے اب نہالے یا بعد حَیض ختم ہونے کے۔
مسئلہ ۲۸: جنب نے جمعہ یا عید کے دن غُسل جنابت کیا اور جمعہ اور عید وغیرہ کی نیت بھی کرلی سب ادا ہو گئے، اگر اُسی غُسل سے جمعہ اور عید کی نماز ادا کرلے۔
مسئلہ ۲۹: عورت کو نہانے یا وُضو کے لیے پانی مَول لینا پڑے تو اس کی قیمت شوہر کے ذمہ ہے بشرطیکہ غُسل و وُضو واجب ہوں یا بدن سے میل دور کرنے کے لیے نہائے۔ (3)
مسئلہ ۳۰: جس پر غُسل واجب ہے اسے چاہیے کہ نہانے میں تاخیر نہ کرے۔ حدیث میں ہے جس گھر میں جنب ہو اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے (4) اور اگر اتنی دیر کر چکا کہ نماز کا آخر وقت آگیا تو اب فوراً نہانا فرض ہے، اب تاخیر کریگا