(۳) حَشفہ یعنی سرِ ذَکر کا عورت کے آگے یا پیچھے یا مرد کے پیچھے داخل ہونادونوں پر غُسل واجب کر تا ہے، شَہوت کے ساتھ ہو یا بغیر شہوت، اِنزال ہو یا نہ ہو بشرطیکہ دونوں مکلّف ہوں اور اگر ایک بالغ ہے تو اس بالغ پر فرض ہے اور نابالغ پر اگرچہ غُسل فرض نہیں مگر غُسل کا حکم دیا جائے گا، مثلاً مرد بالغ ہے اور لڑکی نابالغ تو مرد پر فرض ہے اور لڑکی نابالغہ کو بھی نہانے کا حکم ہے اور لڑکا نابالغ ہے اور عورت بالغہ ہے تو عورت پر فرض ہے اور لڑکے کو بھی حکم دیا جائے گا۔ (1)
مسئلہ ۱۵: اگر حَشْفہ کاٹ ڈالا ہو تو باقی عضو تناسل میں کا اگر حَشْفہ کی قدر داخل ہو گیا جب بھی وہی حکم ہے جو حَشْفہ داخل ہونے کا ہے۔ (2)
مسئلہ ۱۶: اگر چوپایہ یا مردہ یاایسی چھوٹی لڑکی سے جس کی مثل سے صحبت نہ کی جا سکتی ہو، وطی کی تو جب تک اِنزال نہ ہو غُسل واجب نہیں۔ (3)
مسئلہ ۱۷: عورت کی ران میں جِماع کیا اور اِنزال کے بعد مَنی فرج میں گئی یا کو آری سے جِماع کیا اور اِنزال بھی ہو گیا مگر بَکارت زائل نہ ہوئی تو عورت پر غُسل واجب نہیں۔ ہاں اگر عورت کے حمل رہ جائے تو اب غُسل واجب ہونے کا حکم دیا جائے گا اور وقتِ مُجامعت سے جب تک غُسل نہیں کیا ہے تمام نمازوں کا اعادہ کرے۔ (4)
مسئلہ ۱۸: عورت نے اپنی فرج میں انگلی یا جانور یا مردے کا ذَکر یا کوئی چیزربڑ یا مٹی وغیرہ کی مثلِ ذَکر کے بنا کر داخل کی تو جب تک اِنزال نہ ہو غُسل واجب نہیں۔ اگر جن آدمی کی شکل بن کر آیا اور عورت سے جِماع کیا تو حَشْفہ کے غائب ہونے ہی سے غُسل واجب ہو گیا۔ آدمی کی شکل پر نہ ہو تو جب تک عورت کو اِنزال نہ ہو غُسل واجب نہیں۔ یوہیں اگر مرد نے پری سے جِماع کیا اور وہ اس وقت انسانی شکل میں نہیں، بغیر اِنزال وجوبِ غُسل نہ ہوگا اور شکلِ انسانی میں ہے توصرف غَیبتِ حَشْفہ (5) سے واجب ہو جائے گا۔ (6)
مسئلہ ۱۹: غُسلِ جِماع کے بعد عورت کے بدن سے مرد کی بقیہ مَنی نکلی تو اس سے غُسل واجب نہ ہو گا البتہ وُضو جاتا رہے گا۔ (7)