مسئلہ ۶: اگر سونے سے پہلے شَہوت تھی آلہ قائم تھا اب جاگا اور اس کا اثر پایا اور مذی ہونا غالب گمان ہے اور اِحْتِلام یاد نہیں تو غُسل واجب نہیں، جب تک اس کے مَنی ہونے کا ظن غالب نہ ہو اور اگرسونے سے پہلے شَہوت ہی نہ تھی یا تھی مگر سونے سے قبل دب چکی تھی اور جو خارِج ہوا تھا صاف کر چکا تھا تو مَنی کے ظنِ غالب کی ضرورت نہیں بلکہ محض احتمالِ مَنی سے غُسل واجب ہو جائے گا۔ یہ مسئلہ کثیرُ الوُقوع ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں۔اس کا خیال ضرور چاہیے۔ (1)
مسئلہ ۷: بیماری وغیرہ سے غش آیا یا نشہ میں بیہوش ہوا، ہوش آنے کے بعد کپڑے یا بدن پر مذی ملی تو وُضو واجب ہو گا، غُسل نہیں اور سونے کے بعد ایسا دیکھے تو غُسل واجب مگر اسی شرط پر کہ سونے سے پہلے شَہوت نہ تھی۔ (2)
مسئلہ ۸: کسی کو خواب ہوا اور مَنی باہرنہ نکلی تھی کہ آنکھ کُھل گئی اور آلہ کو پکڑ لیا کہ مَنی باہر نہ ہو، پھر جب تُندی جاتی رہی چھوڑ دیا اب نکلی تو غُسل واجب ہوگیا۔ (3)
مسئلہ ۹: نماز میں شَہوت تھی اور مَنی اُترتی ہوئی معلو م ہوئی مگر ابھی باہر نہ نکلی تھی کہ نماز پوری کرلی، اب خارِج ہوئی توغُسل واجب ہو گا مگر نماز ہوگئی۔ (4)
مسئلہ ۱۰: کھڑے یا بیٹھے یا چلتے ہوئے سو گیا، آنکھ کھلی تو مذی پائی غُسل واجب ہے۔(5)
مسئلہ ۱۱: رات کو اِحْتِلام ہوا جاگا تو کوئی اثر نہ پایا، وُضوکر کے نماز پڑھ لی اب اس کے بعد مَنی نکلی، غُسل اب واجب ہوا اور وہ نماز ہوگئی۔ (6)
مسئلہ ۱۲ : عورت کو خواب ہوا تو جب تک مَنی فرجِ داخل سے نہ نکلے غُسل واجب نہیں۔ (7)
مسئلہ ۱۳: مردو عورت ایک چارپائی پر سوئے، بعد بیداری بستر پر مَنی پائی گئی اور ان میں ہر ایک اِحْتِلام کا مُنکر ہے، اِحْتِیاط یہ ہے کہ بہرحال دونوں غُسل کریں اور یہی صحیح ہے۔ (8)
مسئلہ ۱۴: لڑکے کا بُلوغ اِحْتِلام کے ساتھ ہواا س پر غُسل واجب ہے۔ (9)