(۱) مَنی کا اپنی جگہ سے شَہوت کے ساتھ جدا ہوکر عُضْوْ سے نکلنا سببِ فرضیتِ غُسل ہے۔ (1)
مسئلہ ۱: اگر شَہوت کے ساتھ اپنی جگہ سے جدا نہ ہوئی بلکہ بوجھ اٹھانے یا بلندی سے گرنے کے سبب نکلی تو غُسل واجب نہیں ہاں وُضو جاتا رہے گا۔ (2)
مسئلہ ۲: اگر اپنے ظَرف سے شَہوت کے ساتھ جدا ہوئی مگر اس شخص نے اپنے آلہ کو زور سے پکڑلیا کہ باہر نہ ہو سکی، پھر جب شَہوت جاتی رہی چھوڑدیا اب مَنی باہر ہوئی تواگرچہ باہر نکلنا شَہوت سے نہ ہوا مگر چونکہ اپنی جگہ سے شَہوت کے ساتھ جدا ہوئی لہٰذا غُسل واجب ہوا اسی پر عمل ہے۔ (3)
مسئلہ ۳: اگر مَنی کچھ نکلی اور قبل پیشاب کرنے یا سونے یا چالیس قدم چلنے کے نہا لیا اور نماز پڑھ لی اب بقیہ مَنی خارِج ہوئی تو غُسل کرے کہ یہ اسی مَنی کا حصہ ہے جو اپنے مَحل سے شَہوت کے ساتھ جدا ہوئی تھی اور پہلے جو نماز پڑھی تھی ہو گئی اس کے اعادہ کی حاجت نہیں اور اگر چالیس قدم چلنے یا پیشاب کرنے یا سونے کے بعد غُسل کیا پھر مَنی بلا شَہوت نکلی تو غُسل ضروری نہیں اور یہ پہلی کابقیّہ نہیں کہی جائے گی۔ (4)
مسئلہ ۴: اگر مَنی پتلی پڑ گئی کہ پیشاب کے وقت یا ویسے ہی کچھ قطرے بلاشَہوت نکل آئیں تو غُسل واجب نہیں البتہ وُضو ٹوٹ جائے گا۔
(۲) اِحْتِلام یعنی سوتے سے اٹھا اور بدن یا کپڑے پر تری پائی اور اس تری کے مَنی یا مَذی ہونے کا یقین یا احتمال ہو تو غُسل واجب ہے اگرچہ خواب یاد نہ ہو اور اگریقین ہے کہ یہ نہ مَنی ہے نہ مذی بلکہ پسینہ یا پیشاب یا وَدی یا کچھ اورہے تو اگرچہ اِحْتِلام یاد ہو اور لذّتِ اِنزال خیال میں ہو غُسل واجب نہیں اور اگر مَنی نہ ہونے پر یقین کرتا ہے اور مذی کا شک ہے تو اگر خواب میں اِحْتِلام ہونا یاد نہیں تو غُسل نہیں ورنہ ہے۔ (5)
مسئلہ ۵: اگر اِحْتِلام یاد ہے مگر اس کا کوئی اثر کپڑے وغیرہ پر نہیں غُسل واجب نہیں۔ (6)