Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
320 - 432
بھی ممکن نہ ہو تو تیمم کر ے مگر یہ احتمال بہت بعید ہے اور 

    (۱۵) کسی قسم کا کلام نہ کرے۔ 

    (۱۶) نہ کوئی دعا پڑھے۔ بعد نہانے کے رومال سے بدن پونچھ ڈالے تو حَرَج نہیں۔ (1) 

    مسئلہ ۱: اگر غُسل خانہ کی چھت نہ ہو یا ننگے بدن نہائے بشرطیکہ مَوضَعِ اِحْتِیاط ہو تو کوئی حَرَج نہیں۔ ہاں عورتوں کو بہت زِیادہ اِحْتِیاط کی ضرورت ہے اور عورتوں کو بیٹھ کر نہانا بہتر ہے۔ بعدنہانے کے فوراً کپڑے پہن لے اور وُضوکے سنن و مستحبات، غُسل کے لیے سنن و مستحبات ہیں مگر سِتْر کھلا ہو تو قِبلہ کو مونھ کرنا نہ چاہیے اور تہبند باندھے ہو توحَرَج نہیں۔ 

    مسئلہ ۲: اگر بہتے پانی مثلاً دریا یا نہر میں نہایا تو تھوڑی دیر اس میں رکنے سے تین بار دھونے اور ترتیب اور وُضویہ سب سنتیں ادا ہو گئیں، اس کی بھی ضرورت نہیں کہ اعضا کو تین بار حرکت دے اور تالاب وغیرہ ٹھہرے پانی میں نہایا تو اعضا کو تین بار حرکت دینے یا جگہ بدلنے سے تَثْلِیْث یعنی تین بار دھونے کی سنّت ادا ہو جائے گی۔ مینھ میں کھڑا ہو گیا تو یہ بہتے پانی میں کھڑے ہونے کے حکم میں ہے۔ بہتے پانی میں وُضو کیا تو وہی تھوڑی دیر ا س میں عُضْوْ کو رہنے دینا اور ٹھہرے پانی میں حرکت دینا تین بار دھونے کے قائم مقام ہے۔ (2) 

    مسئلہ ۳ : سب کے لیے غُسل یا وُضو میں پانی کی ایک مقدار مُعَیّن نہیں (3)، جس طرح عوام میں مشہور ہے محض باطل ہے ایک لمبا چوڑا، دوسرا دبلا پتلا،ایک کے تمام اعضا پر بال، دوسرے کا بدن صاف، ایک گھنی داڑھی والا، دوسرا بے ریش، ایک کے سر پر بڑے بڑے بال، دوسرے کا سر منڈا، وعلی ھٰذاالقیاس سب کے لیے ایک مقدار کیسے ممکن ہے۔ 

    مسئلہ ۴: عورت کو حمام میں جانا مکروہ ہے اور مرد جا سکتا ہے مگر سِتْر کا لحاظ ضرور ی ہے۔ لوگوں کے سامنے سِتْر کھول کر نہانا حرام ہے۔ 

    مسئلہ ۵: بغیر ضرورت صبح تڑکے حمام کو نہ جائے کہ ایک مخفی امر لوگوں پر ظاہر کرنا ہے۔ (4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثاني في الغسل، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۴. 

و ''تنویر الأبصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۳۱۹،۳۲۵. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: سنن الغسل، ج۱، ص۳۲۰.

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۶۲۶،۶۲۷. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، فصل الاستنجاء، مطلب في الفرق بین الاستبراء... إلخ، ج۱، ص۶۲۲.
Flag Counter