(۱۳) ران اور پَیڑو (1) کا جوڑ۔
(۱۴) ران اور پنڈلی کا جوڑ جب بیٹھ کر نہائیں ۔
(۱۵) دونوں سُرین کے ملنے کی جگہ خُصُوصاً جب کھڑے ہو کر نہائیں۔
(۱۶) رانوں کی گولائی (۱۷) پنڈلیوں کی کروٹیں (۱۸) ذَکر و انثیین (2) کے ملنے کی سطحیں بے جدا کیے نہ دھلیں گی۔ (۱۹) انثیین کی سطحِ زیریں جوڑ تک (۲۰) انثیین کے نیچے کی جگہ جڑ تک (۲۱) جس کا ختنہ نہ ہوا ہوتو اگر کھال چڑھ سکتی ہو تو چڑھا کر دھوئے اور کھال کے اندر پانی چڑھائے۔ عورتوں پر خاص یہ اِحْتِیاطیں ضروری ہیں۔ (۲۲) ڈھلکی ہوئی پِستان کو اٹھا کر دھونا (۲۳) پستان و شکم کے جوڑ کی تحریر (۲۴) فرجِ خارِج (3) کا ہر گوشہ ہر ٹکڑا نیچے اوپر خیال سے دھویا جائے، ہاں فرجِ داخل (4) میں انگلی ڈال کر دھونا واجب نہیں مستحب ہے۔ (5) یوہیں اگر حَیض و نِفاس سے فارغ ہو کر غُسل کرتی ہے تو ایک پرانے کپڑے سے فرجِ داخل کے اندر سے خون کا اثر صاف کر لینا مستحب ہے۔ (۲۵) ماتھے پر افشاں چنی ہو تو چُھڑانا ضروری ہے۔
مسئلہ ۴: بال میں گِرہ پڑجائے توگِرہ کھول کراس پرپانی بہاناضروری نہیں۔ (6)
مسئلہ ۵: کسی زخم پر پٹی وغیرہ بندھی ہو کہ اس کے کھولنے میں ضرر یا حَرَج ہو،یا کسی جگہ مرض یا درد کے سبب پانی بہنا ضرر کریگا تو اس پورے عُضْوْ کو مسح کریں اور نہ ہو سکے تو پٹی پر مسح کافی ہے اور پٹی مَوضَعِ حاجت سے زِیادہ نہ رکھی جائے ورنہ مسح کافی نہ ہوگا اور اگر پٹی مَوضَعِ حاجت ہی پر بندھی ہے مثلاً بازو پر ایک طرف زخم ہے اور پٹی باندھنے کے لیے بازو کی اتنی ساری گولائی پر ہونا اس کا ضرور ہے تو اس کے نیچے بدن کا وہ حصہ بھی آئے گا جسے پانی ضرر نہیں کرتا، تو اگر کھولنا ممکن ہو کھول کر اس حصہ کا دھونا فرض ہے اور اگر ناممکن ہو اگرچہ یوہیں کہ کھول کر پھرو یسی نہ باندھ سکے گا اور اس میں ضرر کا اندیشہ ہے تو ساری پٹی پر مسح کرلے کافی ہے، بدن کا وہ اچھا حصہ بھی دھونے سے معاف ہو جائے گا۔
مسئلہ ۶: زکام یا آشوبِ چشم وغیرہ ہو اور یہ گمانِ صحیح ہو کہ سر سے نہانے میں مرض میں زیادتی یا اورا مراض پیدا ہو جائیں گے تو کُلّی کرے، ناک میں پانی ڈالے اور گردن سے نہالے اور سر کے ہر ذرّہ پر بِھیگا ہاتھ پھیرلے غُسل ہو جائے گا،