مسئلہ ۳: بلاق کا سوراخ اگر بند نہ ہو تو اس میں پانی پہنچانا ضروری ہے، پھر اگر تنگ ہے تو حرکت دینا ضروری ہے ورنہ نہیں۔ (1)
(۳) تمام ظاہر بدن یعنی سر کے بالوں سے پاؤں کے تلوؤں تک جِسْم کے ہر پُرزے ہر رُونگٹے پر پانی بہ جانا،اکثر عوام بلکہ بعض پڑھے لکھے یہ کرتے ہیں کہ سر پر پانی ڈال کر بدن پر ہاتھ پھیر لیتے ہیں اور سمجھے کہ غُسل ہو گیا حالانکہ بعض اعضا ایسے ہیں کہ جب تک ان کی خاص طور پر اِحْتِیاط نہ کی جائے نہیں دھلیں گے اور غُسل نہ ہوگا (2)، لہٰذا بالتفصیل بیان کیا جاتا ہے۔ اعضائے وُضو میں جو مواضِعِ اِحْتِیاط ہیں ہر عُضْوْ کے بیان میں ان کا ذکر کر دیا گیا ان کایہاں بھی لحاظ ضروری ہے اور ان کے علاوہ خاص غُسل کے ضروریات یہ ہیں۔
(۱) سر کے بال گندھے نہ ہوں تو ہر بال پر جڑ سے نوک تک پانی بہنا اور گندھے ہوں تو مرد پر فرض ہے کہ ان کو کھول کر جڑ سے نوک تک پانی بہائے اورعورت پر صرف جڑ تر کرلینا ضروری ہے کھولنا ضرور ی نہیں، ہاں اگر چوٹی اتنی سَخْت گُندھی ہو کہ بے کھولے جڑیں تر نہ ہوں گی تو کھولنا ضروری ہے۔
(۲) کانوں میں بالی وغیرہ زیوروں کے سوراخ کا وہی حکم ہے جو ناک میں نَتھ کے سوراخ کا حکم وُضو میں بیان ہوا۔
(۳) بَھوؤں اورمونچھوں اور داڑھی کے بال کا جڑ سے نوک تک اور ان کے نیچے کی کھال کا دُھلنا ۔
(۴) کان کا ہر پرزہ اور اس کے سوراخ کا مونھ ۔
(۵) کانوں کے پیچھے کے بال ہٹا کر پانی بہائے ۔
(۶) ٹھوڑی اور گلے کا جوڑ کہ بے مونھ اٹھائے نہ دھلے گا۔
(۷) بغلیں بے ہاتھ اٹھائے نہ دھلیں گی۔
(۸) بازو کا ہر پہلو۔
(۹) پِیٹھ کا ہرذرہ۔
(۱۰) پیٹ کی بلٹیں اٹھا کر دھوئیں ۔
(۱۱) ناف کو انگلی ڈال کر دھوئیں جب کہ پانی بہنے میں شک ہو۔
(۱۲) جِسْم کا ہر رُونگٹا جڑ سے نوک تک ۔