خیر نہیں'' عرض کی ''تہبند باندھ کر جاتی ہیں'' فرمایا: '' اگرچہ تہبند اور کُرتے اور اوڑھنی کے ساتھ جائیں۔'' (1)
حدیث ۱۱: صحیح بُخاری و مسلِم میں روایت ہے کہ اُمُّ المُومِنین اُمِّ سَلَمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ: '' ام سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے عرض کی، یا رسول اللہ! اﷲ تعالیٰ حق بیان کرنے سے حیا نہیں فرماتا تو کیا جب عورت کو اِحْتِلام ہو تو اس پر نہانا ہے؟ فرمایا: ''ہاں !جب کہ پانی (منی) دیکھے۔'' اُم سَلَمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے مونھ ڈھانک لیا اور عرض کی، یا رسول اللہ! کیا عورت کو اِحْتِلام ہوتا ہے؟ فرمایا:'' ہاں! ایسا نہ ہو تو کس وجہ سے بچہ ماں کے مشابہ ہوتا ہے۔'' (2)
فائدہ: اُمّہاتُ المومنین کو اﷲ عزوجل نے حاضری خدمت سے پیشتربھی اِحْتِلام سے محفوظ رکھا تھا ۔اس لیے کہ اِحْتِلام میں شیطان کی مُداخلت ہے اورشیطانی مداخلتوں سے ازواجِ مطہّرات پاک ہیں اسی لیے ان کو حضرت اُمّ سلیم کے اس سوال کا تعجب ہوا۔
حدیث ۱۲: ابو داود و ترمذی، عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے سوال ہو ا کہ مرد تری پائے اور اِحْتِلام یاد نہ ہو فرمایا: ''غُسل کرے '' اور اس شخص کے بارے میں سوال ہوا کہ خواب کا یقین ہے اور تری (اثر) نہیں پاتا فرمایا:'' اس پر غُسل نہیں۔'' ام سلیم نے عرض کی عورت اس کو دیکھے تو اس پر غُسل ہے ؟ فرمایا: '' ہاں! عورتیں مردوں کی مثل ہیں۔'' (3)
حدیث ۱۳: تِرمذی میں انھیں سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :''جب مرد کے ختنہ کی جگہ (حشفہ) عورت کے مقام میں غائب ہو جائے غُسل واجب ہو جائے گا۔'' (4)
حدیث ۱۴: صحیح بُخاری و مسلِم میں عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کی کہ ان کو رات میں نہانے کی ضرورت ہو جاتی ہے۔ فرمایا: '' وُضو کر لو اور عضو تناسُل کو دھولو پھر سو رہو۔'' (5)
حدیث ۱۵: صحیحین میں عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، فرماتی ہیں: ''نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب جنب ہوتے اور