Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
313 - 432
یا رسول اللہ! میں اپنے سر کی چوٹی مضبوط گوندھتی ہوں تو کیا غُسلِ جنابت کے لیے اسے کھول ڈالوں ؟ فرمایا نہیں تجھ کو صرف یہی کفایت کرتا ہے کہ سر پر تین لَپ پانی ڈالے، پھر اپنے اوپر پانی بہالے پاک ہو جائے گی۔'' یعنی جب کہ بالوں کی جڑیں تر ہو جائیں اور اگر اتنی سَخْت گندھی ہو کہ جڑوں تک پانی نہ پہنچے تو کھولنا فرض ہے۔ (1) 

    حدیث ۵: ابو داود و تِرمذی و ابنِ ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ہر بال کے نیچے جنابت ہے تو بال دھوؤ اور جلد کو صاف کرو۔'' (2) 

    حدیث ۶: نیز ابو داود نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: '' جو شخص غُسلِ جنابت میں ایک بال کی جگہ بے دھوئے چھوڑ دے گا اس کے ساتھ آگ سے ایسا ایسا کیا جائے گا۔'' (یعنی عذاب دیا جائے گا) حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: '' اسی وجہ سے میں نے اپنے سر کے ساتھ دشمنی کر لی۔'' تین بار یہی فرمایا (یعنی سر کے بال منڈا ڈالے کہ بالوں کی وجہ سے کوئی جگہ سوکھی نہ رہ جائے)۔ (3) 

    حدیث ۷: اصحاب ِسننِ اَربَعہ نے اُمُّ المُومِنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، فرماتی ہیں کہ: ''نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم غُسل کے بعد وُضو نہیں فرماتے۔'' (4) 

    حدیث ۸: ابو داود نے حضرت یَعلیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ: ''رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک شخص کو میدان میں نہاتے ملاحظہ فرمایا، پھر منبر پر تشریف لے جا کر حمدِ الٰہی و ثنا کے بعد فرمایا: ''اﷲ تعالیٰ حیا فرمانے والا اور پردہ پوش ہے، حیا اور پردہ کرنے کو دوست رکھتا ہے، جب تم میں کوئی نہائے تو اسے پردہ کرنا لازم ہے۔'' (5) 

    حدیث ۹: متعدد کتابوں میں بکثرت صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے مروی، حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو اﷲ اور پچھلے دن (قیامت) پر ایمان لایا حمام میں بغیر تہبند کے نہ جائے اور جو اﷲ اور پچھلے دن پر ایمان لایا اپنی بی بی کو حمام میں نہ بھیجے۔'' (6) 

    حدیث ۱۰: اُمُّ المُومِنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے حمام میں جانے کا سوال کیا، فرمایا: '' عورتوں کے لیے حمام میں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحیض، باب حکم ضفائر المغتسلۃ، الحدیث: ۳۳۰، ص۱۸۱. 

2۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب في الغسل من الجنابۃ، الحدیث: ۲۴۸، ج۱، ص۱۱۷. 

3۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب في الغسل من الجنابۃ، الحدیث: ۲۴۹، ج۱، ص۱۱۷. 

4۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجاء فيالوضوء بعد الغسل، الحدیث: ۱۰۷، ج۱، ص۱۶۱. 

5۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الحَمّام، باب النھيعن التعري، الحدیث: ۴۰۱۲، ج۴، ص۵۶. 

6۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الأدب، باب ماجاء فيدخول الحمام، الحدیث: ۲۸۱۰، ج۴، ص۳۶۶.
Flag Counter