Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
312 - 432
    اور فرماتا ہے :
    (یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنۡتُمْ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعْلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیۡ سَبِیۡلٍ حَتّٰی تَغْتَسِلُوۡا ) ـ1ـ
    اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ سمجھنے لگو جو کہتے ہو اور نہ حالتِ جنابت میں جب تک غُسل نہ کرلو مگر سفر کی حالت میں کہ وہاں پانی نہ ملے تو بجائے غُسل تیمم ہے۔

    حدیث ۱: صحیح بُخاری و صحیح مسلِم میں حضرت عائِشہ صِدّیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، ''رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب جنابت کا غُسل فرماتے تو ابتدا یوں کرتے کہ پہلے ہاتھ دھوتے، پھر نماز کا سا وُضو کرتے، پھر انگلیاں پانی میں ڈال کر ان سے بالوں کی جڑیں تر فرماتے، پھر سر پر تین لپ پانی ڈالتے پھر تمام جلد پر پانی بہاتے۔'' (2) 

    حدیث ۲: انھیں کتابوں میں ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے ہے، اُمُّ المُومِنین حضرت مَیمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ: ''نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے نہانے کے لیے میں نے پانی رکھا اور کپڑے سے پردہ کیا، حضور نے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور ان کو دھویا، پھر پانی ڈال کر ہاتھوں کو دھویا، پھر داہنے ہاتھ سے بائیں پر پانی ڈالا، پھر استنجا فرمایا، پھرہاتھ زمین پر مار کر مَلا اور دھویا، پھر کُلّی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور مونھ اورہاتھ دھوئے، پھر سر پر پانی ڈالا اور تمام بدن پر بہایا، پھر اس جگہ سے الگ ہو کر پائے مبارک دھوئے اس کے بعد میں نے (بدن پونچھنے کے لیے) ایک کپڑا دیا تو حضور نے نہ لیا اور ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے تشریف لے گئے۔'' (3) 

    حدیث ۳: بُخاری و مسلِم میں بروایتِ اُمُّ المُومِنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا مروی، کہ '' انصار کی ایک عورت نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے حَیض کے بعد نہانے کا سوال کیا اس کو کیفیت غُسل کی تعلیم فرمائی، پھر فرمایا کہ مُشک آلودہ ایک ٹکڑا لے کر اس سے طہارت کر، عرض کی کیسے اس سے طہارت کروں فرمایا اس سے طہارت کر،عرض کی کیسے طہارت کروں، فرمایا سبحان اﷲ اس سے طہارت کر، اُم المومنین فرماتی ہیں میں نے اسے اپنی طرف کھینچ کر کہا اس سے خون کے اثر کو صاف کر ۔'' (4) 

    حدیث ۴: امام مسلِم نے اُمُّ المُومِنین اُمِّ سَلَمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی فرماتی ہیں: ''میں نے عرض کی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ پ۵،النسآء: ۴۳. 

2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الغسل، باب الوضوء قبل الغسل، الحدیث: ۲۴۸، ج۱، ص ۱۰۵. 

3۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الغسل، باب نفض الیدین من الغسل عن الجنابۃ، الحدیث: ۲۷۶، ج۱، ص۱۱۳. 

4۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الحیض، باب دلک المرأۃ نفسھا إذا ... إلخ، الحدیث: ۳۱۴،۳۱۵، ج۱، ص۱۲۶،۱۲۷.
Flag Counter