Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
311 - 432
    مسئلہ ۱۰: جو باوُضو تھا اب اسے شک ہے کہ وُضو ہے یا ٹوٹ گیا تو وُضو کرنے کی اسے ضرورت نہیں۔ (1) ہاں کر لینا بہتر ہے جب کہ یہ شُبہہ بطورِ وسوسہ نہ ہوا کرتا ہو اور اگر وسوسہ ہے تو اسے ہرگز نہ مانے ،اس صورت میں اِحْتِیاط سمجھ کر وُضو کرنا اِحْتِیاط نہیں بلکہ شیطانِ لعین کی اطاعت ہے۔

    مسئلہ ۱۱: اور اگر بے وُضو تھا اب اسے شک ہے کہ میں نے وُضو کیا یا نہیں تو وہ بلا وُضو ہے اس کو وُضو کرنا ضرور ی ہے۔ (2) 

    مسئلہ ۱۲: یہ معلوم ہے کہ وُضو کے لیے بیٹھا تھا اور یہ یاد نہیں کہ وُضو کیا یا نہیں تو اسے وُضو کرنا ضرور نہیں۔ (3) 

    مسئلہ ۱۳: یہ یاد ہے کہ پاخانہ یا پیشاب کے لیے بیٹھا تھا مگریہ یاد نہیں کہ پِھرا (4) بھی یا نہیں تو اس پر وُضو فرض ہے۔ (5) 

    مسئلہ ۱۴: یہ یاد ہے کہ کوئی عُضْوْ دھونے سے رہ گیا مگر معلوم نہیں کہ کون عُضْوْ تھا تو بایاں پاؤں دھولے۔ (6) 

    مسئلہ ۱۵: میانی میں تری دیکھی مگر یہ نہیں معلوم کہ پانی ہے یا پیشاب تو اگر عُمر کایہ پہلا واقعہ ہے تو وُضو کرلے اور اس جگہ کو دھولے اور اگر بار ہا ایسے شبہے پڑتے ہیں تو اس کی طرف توجہ نہ کرے شیطانی وسوسہ ہے۔ (7)
غُسل کا بیان
    اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( وَ اِنۡ کُنۡتُمْ جُنُبًا فَاطَّہَّرُوۡا ؕ) ـ8ـ
اگرتم جنب ہو تو خوب پاک ہو جاؤیعنی غسل کرو۔ 

    اور فرماتا ہے :
( حَتّٰی یَطْھُرْنَ ) ـ9ـ
یہاں تک کہ وہ حَیض والی عورتیں اچھی طرح پاک ہو جائیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۷۷۵. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۳۱۰. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۵۶۰، و''الأشباہ والنظائر''، القاعدۃ الثالثۃ، الیقین لا یزول بالشک، ص۴۹. 

4۔۔۔۔۔۔ یعنی کیا۔      5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۵۶۰، و''الأشباہ والنظائر''، ص۴۹. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' ، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۳۱۰. 

7۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱، ص۷۷۸. 

8۔۔۔۔۔۔ پ ۶، المائدۃ:۶.             9۔۔۔۔۔۔ پ ۲، البقرۃ: ۲۲۲.
Flag Counter