مسئلہ ۱: خارِش یا پھڑیوں میں جب کہ بہنے والی رطوبت نہ ہو بلکہ صرف چپک ہو، کپڑا اس سے بار بار چھو کر اگرچہ کتنا ہی سن جائے ،پاک ہے۔ (1)
مسئلہ ۲: سوتے میں رال جو مونھ سے گرے ،اگرچہ پیٹ سے آئے، اگرچہ بدبودار ہو، پاک ہے۔ (2)
مسئلہ ۳: مردے کے مونھ سے جو پانی بہے نجس ہے۔ (3)
مسئلہ ۴: آنکھ دُکھتے میں جو آنسو بہتا ہے نجس و ناقضِ وُضو ہے، اس سے اِحْتِیاط ضروری ہے۔ (4)
مسئلہ ۵: شیر خوار بچے نے دودھ ڈال دیا اگر وہ مونھ بھر ہے نجس ہے ،درہم سے زیادہ جگہ میں جس چیز کو لگ جائے ناپاک کر دے گا لیکن اگر یہ دودھ معدہ سے نہیں آیا بلکہ سینہ تک پہنچ کر پلٹ آیا تو پاک ہے۔ (5)
مسئلہ ۶: درمیانِ وُضو میں اگررِیح خارِج ہویاکوئی ایسی بات ہو جس سے وُضو جاتا ہے تو نئے سرے سے پھر وُضو کرے وہ پہلے دُھلے ہوئے بے دُھلے ہوگئے۔ (6)
مسئلہ ۷: چُلّو میں پانی لینے کے بعد حدث ہوا وہ پانی بے کار ہو گیا کسی عُضْوْ کے دھونے میں نہیں کام آسکتا۔ (7)
مسئلہ ۸: مونھ سے اتنا خون نکلا کہ تھوک سرخ ہو گیا اگر لوٹے یا کٹورے کو مونھ سے لگا کر کُلّی کو پانی لیا تو لوٹا، کٹورا اور کل پانی نجس ہو جائے گا۔ چُلّو سے پانی لے کر کُلّی کرے اور پھر ہاتھ دھو کر کُلّی کے لیے پانی لے۔ (8)
مسئلہ ۹: اگر درمیانِ وُضو میں کسی عُضْوْ کے دھونے میں شک واقع ہوا او ر یہ زندگی کا پہلا واقعہ ہے تو اس کو دھولے اور اگر اکثر شک پڑا کرتا ہے تو اسکی طرف اِلتفات نہ کرے۔ یوہیں اگر بعد وُضو کے شک ہو تو اس کا کچھ خیال نہ کرے۔ (9)