Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
309 - 432
    مسئلہ ۴۴: اگر مسکرایا کہ دانت نکلے آواز باِلکل نہیں نکلی تو اس سے نہ نماز جائے نہ وُضو۔ (1) 

    مسئلہ ۴۵: مباشرتِ ۱۹ فاحشہ یعنی مرد اپنے آلہ کو تندی کی حالت میں عورت کی شرمگاہ یا کسی مرد کی شرمگاہ سے ملائے یا عورت عورت باہم ملائیں بشرطیکہ کوئی شے حائل نہ ہو ناقضِ وُضو ہے۔ (2) 

    مسئلہ ۴۶: اگر مرد نے اپنے آلہ سے عورت کی شرمگاہ کو مس کیا اور انتشارِ آلہ نہ تھا عورت کا وُضو اس وقت میں بھی جاتا رہے گا اگرچہ مرد کا وضونہ جائے گا۔ (3) 

    مسئلہ ۴۷: بڑا ۲۰ استنجا ڈھیلے سے کرکے وُضو کیا اب یاد آیا کہ پانی سے نہ کیا تھا اگر پانی سے استنجا مسنون طریق پر یعنی پاؤں پھیلا کر سانس کا زور نیچے کو دے کر کریگا وُضو جاتا رہے گا اور ویسے کریگا تو نہ جائے گا مگر وُضو کر لینا مناسب ہے۔ (4) 

    مسئلہ ۴۸: پھڑ یا بالکل اچھی ہو گئی اس کا مُردہ پوست باقی ہے جس میں اوپر مونھ اور اندر خلا ہے اگر اس میں پانی بھر گیا پھر دبا کر نکالا تو نہ وُضو جائے نہ وہ پانی ناپاک ہاں اگر اس کے اندر کچھ تری خون وغیرہ کی باقی ہے تو وُضو بھی جاتا رہے گا اور وہ پانی بھی نجس ہے۔ (5) 

    مسئلہ۴۹: عوام میں جو مشہور ہے کہ گھٹنایااور ستر کھلنے یا اپنا یاپرایا ستر دیکھنے سے وُضو جاتا رہتا ہے محض بے اصل بات ہے۔ ہاں وُضو کے آداب سے ہے کہ ناف سے زانو کے نیچے تک سب ستر چھپا ہو بلکہ استنجے کے بعد فوراً ہی چھپا لینا چاہیئے کہ بغیر ضرورت ستر کھلا رہنا منع ہے اور دوسروں کے سامنے ستر کھولنا حرام ہے۔ (6)
متفرق مسائل
    جو رطوبت بدنِ انسان سے نکلے اور وُضو نہ توڑے وہ نجس نہیں مثلاً خون کہ بہ کر نہ نکلے یا تھوڑی قے کہ مونھ بھر نہ ہو پاک ہے۔ (7)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۲. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۳۰۳. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۳. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۳۱۹، وغیرہ .

5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۳۵۵۔۳۵۶.         

6۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۳۵۲. 

7۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۹۴.
Flag Counter