مسئلہ ۳۶: بیمارلیٹ کر نماز پڑھتا تھا نیند آگئی وُضو جاتا رہا۔ (1)
مسئلہ ۳۷: اُونگھنے یا بیٹھے بیٹھے جھونکے لینے سے وُضو نہیں جاتا ۔ (2)
مسئلہ ۳۸: جُھوم کر گر پڑا اور فوراً آنکھ کھل گئی وُضو نہ گیا۔ (3)
مسئلہ ۳۹: نماز وغیرہ کے انتظار میں بعض مرتبہ نیند کا غلبہ ہوتا ہے اور یہ دفع کرنا چاہتا ہے تو بعض وقت ایسا غافل ہو جاتا ہے کہ اس وقت جو باتیں ہوئیں ان کی اسے باِلکل خبر نہیں بلکہ دو تین آواز میں آنکھ کھلی اور اپنے خیال میں یہ سمجھتا ہے کہ سویا نہ تھا اس کے اس خیال کا اعتبار نہیں اگر معتبر شخص کہے کہ تُو غافل تھا، پکارا جواب نہ دیا یا باتیں پوچھی جائیں اور وہ نہ بتا سکے تو اس پر وُضو لازم ہے۔ (4)
فائدہ: انبیاء علیہم السلام کا سونا ناقضِ وُضو نہیں ان کی آنکھیں سوتی ہیں دل جاگتے ہیں۔ علاوہ نیند کے اور نواقض سے انبیاء علیہم السلام کا وُضو جاتا ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے ، صحیح یہ ہے کہ جاتارہتا ہے بوجہ ان کی عظمتِ شان کے، نہ بسبب نجاست کے، کہ انکے فضلاتِ شریفہ طیب و طاہر ہیں جن کا کھانا پینا ہمیں حلال اور باعثِ برکت۔ (5)
مسئلہ ۴۰: بیہوشی ۱۴ اور جنون ۱۵ اور غشی ۱۶ اور اتنا نشہ ۱۷ کہ چلنے میں پاؤں لڑکھڑائیں ناقضِ وُضو ہیں۔ (6)
مسئلہ ۴۱: بالغ ۱۸ کا قہقہہ یعنی اتنی آواز سے ہنسی کہ آس پاس والے سنیں اگر جاگتے میں رکوع سجدہ والی نماز میں ہو وُضو ٹوٹ جائے گا اور نماز فاسد ہو جائے گی۔ (7)
مسئلہ ۴۲: اگر نماز کے اندر سوتے میں یا نماز ِجنازہ یا سجدہ تلاوت میں قہقہہ لگایا تو وُضو نہیں جائے گا وہ نماز یا سجدہ فاسد ہے۔ (8)
مسئلہ ۴۳: اور اگر اتنی آواز سے ہنسا کہ خود اس نے سنا، پاس والوں نے نہ سنا تو وُضو نہیں جائے گا نماز جاتی رہے گی۔ (9)