بھر نہیں مگر دونوں جمع کی جائیں تو مونھ بھر ہو جائے تو یہ ناقضِ وُضو نہیں، پھر اگر ایک ہی مجلس میں ہے تو وُضو کر لینا بہتر ہے۔ (1)
مسئلہ ۳۱: قے میں صرف کیڑے یا سانپ نکلے وُضو نہ جائے گا اور اگر اس کے ساتھ کچھ رطوبت بھی ہے تو دیکھیں گے مونھ بھر ہے یا نہیں۔ مونھ بھر ہے تو ناقض ہے ورنہ نہیں۔ (2)
مسئلہ ۳۲: سو ۱۳ جانے سے وُضو جاتا رہتا ہے بشرطیکہ دونوں سرین خوب نہ جمے ہوں اور نہ ایسی ہیأت پر سویا ہو جو غافل ہو کر نیند آنے کو مانع ہو مثلاً اکڑوں بیٹھ کر سویا یا چت یا پٹ یا کروٹ پر لیٹ کر یا ایک کُہنی پر تکیہ لگا کریا بیٹھ کر سویا مگر ایک کروٹ کو جھکا ہوا کہ ایک یا دونوں سرین اٹھے ہوئے ہیں یا ننگی پیٹھ پر سوار ہے اور جانور ڈھال (3) میں اُتر رہا ہے یا دو زانُو بیٹھا اور پیٹ رانوں پر رکھا کہ دونوں سرین جمے نہ رہے یا چار زانُو ہے اور سر رانوں پر یا پنڈلیوں پر ہے یا جس طرح عورتیں سجدہ کرتی ہیں اسی ہیأت پر سوگیاان سب صورتوں میں وُضو جاتا رہا اور اگر نماز میں ان صورتوں میں سے کسی صورت پر قَصْداً سویا تو وُضو بھی گیا ،نماز بھی گئی وُضو کر کے سرے سے نیت باندھے اور بِلاقَصْد سویا تو وُضو جاتا رہا نماز نہیں گئی۔ وُضو کر کے جس رکن میں سویا تھا وہاں سے ادا کرے اور از سرِنو پڑھنا بہتر ہے۔ (4)
مسئلہ ۳۳: دونوں سُرین زمین یا کرسی یا بنچ پر ہیں اور دونوں پاؤں ایک طرف پھیلے ہوئے یا دونوں سرین پر بیٹھا ہے اور گھٹنے کھڑے ہیں اور ہاتھ پنڈلیوں پر محیط ہوں خواہ زمین پر ہوں ،دو زانُو سیدھا بیٹھا ہو یا چار زانُو پالتی مارے یا زین پر سوار ہو یا ننگی پیٹھ پر سوار ہے مگر جانور چڑھائی پر چڑھ رہا ہے یا راستہ ہموار ہے یا کھڑے کھڑے سو گیا یا رکوع کی صورت پر یا مردوں کے سجدہ مسنونہ کی شکل پر تو ان سب صورتوں میں وُضو نہیں جائے گا اور نماز میں اگر یہ صورتیں پیش آئیں تو نہ وُضو جائے نہ نماز ، ہاں اگر پورا رکن سوتے ہی میں ادا کیا تو اس کا اعادہ ضروری ہے اوراگر جاگتے میں شروع کیا پھر سو گیا تو اگر جاگتے میں بقدرِ کفایت ادا کر چکا ہے تو وہی کافی ہے ورنہ پورا کرلے ۔ (5)
مسئلہ ۳۴: اگر اس شکل پر سویا جس میں وُضو نہیں جاتا اور نیند کے اندر وہ ہیأت پیدا ہوگئی جس سے وُضو جاتا رہتا ہے تو اگر فوراً بلا وقفہ جاگ اٹھا وُضو نہ گیا ورنہ جاتا رہا۔ (6)
مسئلہ ۳۵: گرم تنور کے کنارے پاؤں لٹکائے بیٹھ کر سو گیا تو وُضو کر لینا مناسب ہے۔ (7)