مسئلہ ۲۲: اگر چھوٹی کلّی یا جُوں یا کھٹمل، مچھر، مکھی، پِسّو نے خون چُوسا تو وُضو نہیں جائے گا۔ (1)
مسئلہ ۲۳: ناک صاف کی اس میں سے جما ہوا خون نکلا وُضو نہیں ٹوٹا۔ (2)
مسئلہ ۲۴: نارو (3) سے رطوبت بہے وُضو جاتا رہے گا اور ڈورا نکلا تو وُضو باقی ہے۔ (4)
مسئلہ ۲۵: اندھے کی آنکھ سے جو رطوبت بوجہِ مرض نکلتی ہے ناقضِ وُضو ہے۔ (5)
مسئلہ ۲۶: مونھ ۱۲ بھر قے کھانے یا پانی یا صفرا (6) کی وُضو توڑ دیتی ہے۔ (7)
فائدہ: مونھ بَھر کے یہ معنے ہیں کہ اسے بے تکلّف نہ روک سکتا ہو۔ (8)
مسئلہ ۲۷: بلغم کی قے وُضو نہیں توڑتی جتنی بھی ہو۔ (9)
مسئلہ ۲۸: بہتے خون کی قے وُضو توڑ دیتی ہے جب تھوک سے مغلوب نہ ہو اور جما ہوا خون ہے تو وُضو نہیں جائے گا جب تک مونھ بھر نہ ہو۔ (10)
مسئلہ ۲۹: پانی پیا اور معدے میں اُتر گیا ،اب وہی پانی صاف شفّاف قے میں آیا اگرمونھ بَھرہے وُضو ٹوٹ گیا اور وہ پانی نجس ہے اور اگر سینہ تک پہنچا تھا کہ اچّھو (11) لگا اور نکل آیا تو نہ وہ ناپاک ہے نہ اس سے وُضو جائے۔ (12)
مسئلہ ۳۰: اگر تھوڑی تھوڑی چند بار قے آئی کہ اس کا مجموعہ مونھ بھر ہے تو اگر ایک ہی متلی سے ہے تو وُضو توڑدے گی اور اگر متلی جاتی رہی اور اس کا کوئی اثر نہ رہا پھر نئے سرے سے متلی شروع ہوئی اور قے آئی اور دونوں مرتبہ کی علیٰحدہ علیٰحدہ مونھ