Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
305 - 432
    مسئلہ ۱۲: اور اگر بہا مگر ایسی جگہ بہ کر نہیں آیا جس کا دھونافرض ہو تو وُضو نہیں ٹوٹا۔ مثلاً آنکھ میں دانہ تھا اور ٹوٹ کر آنکھ کے اندر ہی پھیل گیا باہر نہیں نکلا یا کان کے اندر دانہ ٹوٹا اور اس کا پانی سوراخ سے باہر نہ نکلا تو ان صورتوں میں وُضو باقی ہے۔ (1) 

    مسئلہ ۱۳: زخم میں گڑھا پڑ گیا اور اس میں سے کوئی رطوبت چمکی مگر بہی نہیں تو وُضو نہیں ٹوٹا۔ (2) 

    مسئلہ ۱۴: زخم سے خون وغیرہ نکلتا رہا اور یہ بار بار پونچھتا رہا کہ بہنے کی نوبت نہ آئی تو غور کرے کہ اگر نہ پونچھتا تو، بہ جاتا یا نہیں اگر بہ جاتا تو وُضو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں۔یوہیں اگر مٹی یا راکھ ڈال ڈال کر سکھاتا رہا اس کابھی وہی حُکْم ہے۔ (3) 

    مسئلہ ۱۵: پھوڑا یا پھنسی نچوڑنے سے خون بہا ،اگرچہ ایسا ہو کہ نہ نچوڑتا تو نہ بہتا جب بھی وُضو جاتا رہا۔ (4) 

    مسئلہ ۱۶: آنکھ، کان، ناف، پِستان وغیرہا میں دانہ یا ناصُور یاکوئی بیماری ہو، ان وُجوہ سے جو آنسو یا پانی بہے وُضو توڑ دے گا۔ (5) 

    مسئلہ ۱۷: زخم یا ناک یا کان یا مونھ سے کیڑا یا زخم سے کوئی گوشت کا ٹکڑا (جس پر خون یا پیپ کوئی نجس رطوبت قابل سیلان نہ تھی) کَٹ کر گرا وُضو نہیں ٹوٹے گا۔ (6) 

    مسئلہ ۱۸: کان میں تیل ڈالا تھا اور ایک دن بعد کان یا ناک سے نکلا وُضو نہ جائے گا یوہیں اگر مونھ سے نکلا جب بھی ناقض نہیں ہاں اگر یہ معلوم ہو کہ دماغ سے اتر کر معدہ میں گیا اور معدہ سے آیا ہے تو وُضو ٹوٹ گیا۔ (7) 

    مسئلہ ۱۹: چھالا نوچ ڈالا اگر اس میں کا پانی بہ گیا وُضو جاتا رہا ورنہ نہیں۔ (8) 

    مسئلہ ۲۰: مونھ سے خون نکلا اگر تھوک پر غالب ہے وُضو توڑ دے گا ورنہ نہیں۔ 

    فائدہ: غلبہ کی شناخت یوں ہے کہ تھوک کا رنگ اگر سرخ ہو جائے تو خون غالب سمجھا جائے اور اگر زرد ہو تو مغلوب۔ (9) 

    مسئلہ ۲۱: جونک یا بڑی کلّی نے خون چوسا اور اتنا پی لیا کہ اگر خود نکلتا تو بہ جاتا وُضو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں۔ (10)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: نواقض الوضوء، ج۱، ص۲۸۶. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۸۰. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۱. 

و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، نواقض الوضوء، ج۱، ص۲۸۶، و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۸۱. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، المرجع السابق .             5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۱۰. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۸۸. 

7۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۰. 

8۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۱۱.                 9۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

10۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۱. 

و ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۹۲.
Flag Counter