| بہارِشریعت حصّہ دوم (2) |
(۵۹) بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر تھوڑا پی لے کہ شفائے امراض ہے اور
(۶۰) آسمان کی طرف مونھ کرکےسُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْکَ(1)
اور کلمہ شہادت اور سورہ اِنَّا اَنْزَلْنَا پڑھے۔
(۶۱) اعضائے وُضو بغیر ضرورت نہ پُونچھے اور پُونچھے تو بے ضرورت خُشک نہ کرلے ۔
(۶۲) قدرے نم باقی رہنے دے کہ روزِ قیامت پلہ حَسنات میں رکھی جائے گی ۔اور
(۶۳) ہاتھ نہ جھٹکے کہ شیطان کا پنکھا ہے۔
(۶۴) بعدِ وُضو مِیانی (2) پر پانی چِھڑک لے۔ (3) اور
(۶۵) مکروہ وقت نہ ہو تو دو رکعت نماز نفل پڑھے اس کو تحیۃ الوُضو کہتے ہیں۔ (4)وُضو میں مکروہات
(۱) عورت کے غسل یا وُضو کے بچے ہوئے پانی سے وُضو کرنا۔
(۲) وُضو کے لیے نجس جگہ بیٹھنا۔
(۳) نجس جگہ وُضو کا پانی گرانا۔
(۴) مسجد کے اندر وُضو کرنا۔
(۵) اعضائے وُضو سے لوٹے وغیرہ میں قطرہ ٹپکانا۔
(۶) پانی میں رینٹھ یا کھنکار ڈالنا۔
(۷) قبلہ کی طرف تھوک یا کھنکار ڈالنا یا کُلّی کرنا۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ تو پاک ہے اے اﷲ (عزوجل) اور میں تیری حمد کرتا ہوں میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔ ۱۲ 2۔۔۔۔۔۔ پاجامہ کا وہ حصہ جو پیشاب گاہ کے قریب ہوتا ہے۔ 3۔۔۔۔۔۔ شیخِ طریقت، عاشقِ اعلیٰ حضرت، امیرِ اہلسُنت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ ''نماز کے اَحکام'' صفحہ 19پر فرماتے ہیں کہ: ''پانی چھڑکتے وقت میانی کو کُرتے کے دامن میں چھپائے رکھنا مناسب ہے، نیز وُضو کرتے وقت بھی بلکہ ہر وقت میانی کو کُرتے کے دامن یا چادر وغیرہ کے ذریعہ چھپائے رکھنا حیا کے قریب ہے۔ 4۔۔۔۔۔۔ ''غنیۃ المتملي شرح منیۃ المصلي''، آداب الوضوء، ص۲۸ ۔ ۳۷. و ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۶۶ ۔ ۲۸۰. و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الثالث، ج ۱، ص ۸.