Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
298 - 432
    (۳۲) پاؤں کو بائیں ہاتھ سے دھونا 

    (۳۳) مونھ دھونے میں ماتھے کے سرے پر ایسا پھیلا کر پانی ڈالنا کہ اوپر کا بھی کچھ حصہ دھل جائے۔ 

    تنبیہ: بہت سے لوگ یوں کیاکرتے ہیں کہ ناک یا آنکھ یا بھوؤں پر چُلّو ڈال کر سارے مونھ پر ہاتھ پھیرلیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ مونھ دُھل گیا حالانکہ پانی کا اوپر چڑھنا کوئی معنی نہیں رکھتا اس طرح دھونے میں مونھ نہیں دُھلتا اور وُضو نہیں ہوتا۔ 

    (۳۴) دونوں ہاتھ سے مونھ دھونا 

    (۳۵) ہاتھ پاؤں دھونے میں اُنگلیوں سے شروع کرنا 

    (۳۶) چہرے اور 

    (۳۷) ہاتھ پاؤں کی روشنی وسیع کرنا یعنی جتنی جگہ پر پانی بہانا فرض ہے اس کے اَطراف میں کچھ بڑھانا مثلاً نصف بازوو نصف پنڈلی تک دھونا 

    (۳۸) مسحِ سر میں مستحب طریقہ یہ ہے کہ انگوٹھے اور کلمے کی اُنگلی کے سوا ایک ہاتھ کی باقی تین اُنگلیوں کا سرا، دوسرے ہاتھ کی تینوں اُنگلیوں کے سرے سے ملائے اور پیشانی کے بال یا کھال پر رکھ کر گُدّی تک اس طرح لے جائے کہ ہتھیلیاں سر سے جدا رہیں وہاں سے ہتھیلیوں سے مسح کرتا واپس لائے اور 

    (۳۹) کلمہ کی اُنگلی کے پیٹ سے کان کے اندرونی حصہ کا مسح کرے اور 

    (۴۰) انگوٹھے کے پیٹ سے کان کی بیرونی سَطح کا اور اُنگلیوں کی پُشت سے گردن کا مسح۔ 

    (۴۱) ہر عُضْوْ دھو کر اس پر ہاتھ پھیردینا چاہیئے کہ بُو ندیں بدن یا کپڑے پر نہ ٹپکیں، خُصُوصاً جب مسجد میں جانا ہو کہ قطروں کا مسجد میں ٹپکنا مکروہِ تَحْرِیمی ہے۔ 

    (۴۲) بہت بھاری برتن سے وُضو نہ کرے خُصُوصاً کمزور کہ پانی بے اِحْتِیاطی سے گرے گا 

    (۴۳) زَبان سے کہہ لینا کہ وُضو کرتا ہوں 

    (۴۴) ہر عُضْوْ کے دھوتے یا مسح کرتے وقت نیّتِ  وُضو حاضر رہنا اور 

    (۴۵) بسم اللہ کہنا اور 

    (۴۶) درود اور
    (۴۷) اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ سَیِّدَنَا مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ (1)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ ۱۲
Flag Counter