(۱۲) پانی بہاتے وقت اعضا پر ہاتھ پھیرنا خاص کر جاڑے میں۔
(۱۳) پہلے تیل کی طرح پانی چُپڑ لینا خُصُوصاً جاڑے میں۔
(۱۴) اپنے ہاتھ سے پانی بھرنا۔
(۱۵) دوسرے وقت کے لیے پانی بھر کر رکھ چھوڑنا۔
(۱۶) وُضو کرنے میں بغیر ضرورت دوسرے سے مدد نہ لینا۔
(۱۷) انگوٹھی کو حرکت دینا جب کہ ڈھیلی ہو کہ اس کے نیچے پانی بہ جانا معلوم ہو ورنہ فرض ہو گا۔
(۱۸) صاحبِ عُذر نہ ہو تو وقت سے پہلے وُضو کر لینا۔
(۱۹) اطمینان سے وُضو کرنا۔ عوام میں جو مشہور ہے کہ وُضو جَوان کا سا، نماز بوڑھوں کی سی یعنی وُضو جلد کریں ایسی جلدی نہ چاہیے جس سے کوئی سنت یا مستحب ترک ہو۔
(۲۰) کپڑوں کو ٹپکتے قطروں سے محفوظ رکھنا۔
(۲۱) کانوں کا مسح کرتے وقت بھیگی چھنگلیا کانوں کے سوراخ میں داخِل کرنا
(۲۲) جو وُضو کامل طور پر کرتا ہو کہ کوئی جگہ باقی نہ رہ جاتی ہو، اسے کوؤں، ٹخنوں، ایڑیوں، تلوؤں، کُونچوں، گھائیوں، کُہنیوں کابالتخصیص خیال رکھنا مستحب ہے اور بے خیالی کرنے والوں کو تو فرض ہے کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہ مَوَاضِع خشک رہ جاتے ہیں یہ نتیجہ ان کی بے خیالی کا ہے۔ ایسی بے خیالی حرام ہے اور خیال رکھنا فرض۔
(۲۳) وُضو کا برتن مٹی کا ہو، تانبے وغیرہ کا ہو تو بھی حرج نہیں مگر
(۲۴) قلعی کیا ہوا۔
(۲۵) اگر وُضو کا برتن لوٹے کی قِسم سے ہو تو بائیں جانب رکھے اور
(۲۶) طشت کی قسم سے ہو تو دہنی طرف
(۲۷) آفتابہ میں دستہ لگا ہو تو دستہ کو تین بار دھو لیں
(۲۸) ا ور ہاتھ اس کے دستہ پر رکھیں اس کے مونھ پر نہ رکھیں
(۲۹) دہنے ہاتھ سے کُلّی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا
(۳۰) بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنا
(۳۱) بائیں ہاتھ کی چھنگلیا ناک میں ڈالنا