Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
296 - 432
    مسئلہ ۴۸: اگر یوں کیا کہ پہلی مرتبہ کچھ دُھل گیا اور دوسری بار کچھ اور تیسری دفعہ کچھ کہ تینوں بار میں پورا عُضْوْ دُھل گیا تو یہ ایک ہی بار دھونا ہو گا اور وُضو ہو جائے گا مگر خلاف سنت، اس میں چُلّوؤں کی گنتی نہیں بلکہ پورا عُضْوْ دھونے کی گنتی ہے کہ وہ تین مرتبہ ہواگرچہ کتنے ہی چلوؤں سے۔ (1) 

    مسئلہ ۴۹: پُورے سر کا ایک بار مسح کرنا اور کانوں کامسح کرنا اور ترتیب کہ پہلے مونھ، پھر ہاتھ دھوئیں،پھر سر کا مسح کریں،پھر پاؤں دھوئیں اگر خلافِ ترتیب وُضو کیا یا کوئی اور سنت چھوڑ گیا تو وُضو ہو جائے گا مگر ایک آدھ دفعہ ایسا کرنا بُرا ہے اور ترکِ سنّتِ مؤکّدہ کی عادت ڈالی تو گنہگار ہے اور داڑھی کے جو بال مونھ کے دائرے سے نیچے ہیں ا ن کا مسح سنّت ہے اور دھونا مستحب ہے اور اعضا کو اس طرح دھونا کہ پہلے والا عُضْوْ سوکھنے نہ پائے۔ (2)
وُضو کے مستحبات
    بہت سے مستحبات ضمناً اوپر ذکر ہوچکے، بعض باقی رہ گئے وہ لکھے جاتے ہیں۔ 

    مسئلہ ۵۰: (۱) داہنی جانب سے ابتدا کریں مگر 

    (۲) دونوں رخسارے کہ ان دونوں کو ساتھ ہی ساتھ دھوئیں گے ایسے ہی 

    (۳) دونوں کانوں کا مسح ساتھ ہی ساتھ ہو گا۔ 

    (۴) ہاں اگر کسی کے ایک ہی ہاتھ ہوتومونھ دھونے اور 

    (۵) مسح کرنے میں بھی دہنے کو مقدم کرے 

    (۶) اُنگلیوں کی پُشت سے 

    (۷) گردن کا مسح کرنا 

    (۸) وُضو کرتے وقت کعبہ رو 

    (۹) اونچی جگہ 

    (۱۰) بیٹھنا۔ 

    (۱۱) وُضو کا پانی پاک جگہ گرانا اور
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في منافع السواک، ج۱، ص۲۵۷.

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۶۲۔۲۶۴. و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۱۴.
Flag Counter