مسئلہ ۴۲: مِسواک نماز کے لیے سنت نہیں بلکہ وُضو کے لیے ،تو جو ایک وُضو سے چند نمازیں پڑھے، اس سے ہر نماز کے لیے مِسواک کا مطالبہ نہیں، جب تک تَغَیّرِ رائِحہ (1) نہ ہو گیاہو،ورنہ اس کے دفع کے لیے مستقل سنت ہے البتہ اگر وُضو میں مِسواک نہ کی تھی تو اب نماز کے وقت کر لے (2) ۔
مسئلہ ۴۳: پھر تین چُلّو پانی سے تین کُلّیاں کرے کہ ہر بار مونھ کے ہر پُرزے پر پانی بہ جائے اور روزہ دار نہ ہو تو غَرغَرہ کرے۔ (3)
مسئلہ ۴۴: پھر تین چُلّو سے تین بار ناک میں پانی چڑھائے کہ جہاں تک نرم گوشت ہوتا ہے ہر بار اس پر پانی بہ جائے اور روزہ دار نہ ہو تو ناک کی جڑ تک پانی پہنچائے اور یہ دونوں کام داہنے ہاتھ سے کرے، پھر بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرے۔ (4)
مسئلہ ۴۵: مونھ دھوتے وقت داڑھی کا خِلال کرے بشرطیکہ اِحرام نہ باندھے ہو، یوں کہ اُنگلیوں کو گردن کی طرف سے داخِل کرے اور سامنے نکالے۔ (5)
مسئلہ ۴۶: ہاتھ پاؤں کی اُنگلیوں کا خِلال کرے ،پاؤں کی اُنگلیوں کا خِلال بائیں ہاتھ کی چھنگلیا سے کرے اس طرح کہ داہنے پاؤں میں چھنگلیا سے شروع کرے اور انگوٹھے پر ختم کرے اور بائیں پاؤں میں انگوٹھے سے شروع کرکے چھنگلیا پر ختم کرے اور اگر بے خِلال کیے پانی اُنگلیوں کے اندر سے نہ بہتا ہو تو خلال فرض ہے یعنی پانی پہنچانا اگرچہ بے خِلال ہو مثلاً گھائیاں کھول کر اوپر سے پانی ڈال دیا یا پاؤں حوض میں ڈال دیا۔ (6)
مسئلہ ۴۷: جو اعضا دھونے کے ہیں ان کو تین تین با ر دھوئے ہر مرتبہ اس طرح دھوئے کہ کوئی حصہ رہ نہ جائے ورنہ سنت ادا نہ ہوگی۔ (7)