Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
291 - 432
اس کا دھونا فرض ہے اوراس دوسرے کادھونا فرض نہیں مستحب ہے مگر اس کا وہ حصہ کہ اس ہاتھ کے موضعِ فرض سے متصل ہے اتنے کا دھونا فرض ہے۔ (1) 

    ۳۔ سرکا مسح کرنا: 

    چوتھائی سر کا مسح فرض ہے۔ (2) 

    مسئلہ ۱۶: مسح کرنے کے لیے ہاتھ تَر ہونا چاہیئے، خواہ ہاتھ میں تَری اعضا کے دھونے کے بعد رہ گئی ہو یا نئے پانی سے ہاتھ تر کر لیا ہو۔ (3) 

    مسئلہ ۱۷: کِسی عُضو کے مسح کے بعد جو ہاتھ میں تَری باقی رہ جائے گی وہ دوسرے عُضْوْ کے مسح کے لیے کافی نہ ہوگی۔ (4) 

    مسئلہ ۱۸: سر پر بال نہ ہوں تو جِلد کی چوتھائی اور جو بال ہوں تو خاص سر کے بالوں کی چَوتھائی کا مسح فرض ہے اور سر کا مسح اسی کو کہتے ہیں۔ (5) 

    مسئلہ ۱۹: عمامے، ٹوپی، دُوپٹے پر مسح کافی نہیں۔ ہاں اگر ٹوپی، دُوپٹا اتنا باریک ہو کہ تَری پُھوٹ کر چوتھائی سر کو تَر کردے تو مسح ہو جائے گا۔ (6) 

    مسئلہ ۲۰: سر سے جو بال لٹک رہے ہوں ان پر مسح کرنے سے مسح نہ ہوگا۔ (7) 

    ۴۔پاؤں کو گٹوں (8) سمیت ایک دفعہ دھونا: (9) 

    مسئلہ ۲۱: چَھلّے اور پاؤں کے گہنوں کا وہی حُکْم ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔ (10)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الأول، ج۱، ص۴. 

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۵. 

3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۶. 

4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۱۶. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الأول، ج۱، ص۶. 

7۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۵.         

8۔۔۔۔۔۔ یعنی ٹخنوں۔ 

9۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الأول، ج۱، ص۵. 

10۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۱۸.
Flag Counter