مسئلہ ۲۲: بعض لوگ کسی بیماری کی وجہ سے پاؤں کے اَنگوٹھوں میں اس قدر کھینچ کر تاگا باندھ دیتے ہیں کہ پانی کا بہنا درکنار تاگے کے نیچے تر بھی نہیں ہوتا ان کو اس سے بچنا لازم ہے کہ اس صورت میں وُضو نہیں ہوتا۔
مسئلہ ۲۳: گھائیاں اور اُنگلیوں کی کروَٹیں، تلوے، ایڑیاں، کونچیں(1) ، سب کا دھونا فرض ہے۔ (2)
مسئلہ ۲۴: جن اَعضا کا دھونا فرض ہے ان پر پانی بہ جانا شرط ہے یہ ضرور نہیں کہ قَصْداًپانی بہائے اگر بِلاقَصْد و اِختیار بھی ان پر پانی بہ جائے (مثلاً مِینھ برسا اور اَعضائے وُضو کے ہر حصہ سے دو دو قطرے مِینھ کے بہ گئے وہ اعضا دُھل گئے اور سر کا چوتھائی حصہ نم ہو گیایا کسی تالاب میں گِر پڑا اور اعضائے وُضو پر پانی گزر گیاوُضو ہو گیا)۔
مسئلہ ۲۵: جس چیز کی آدمی کو عُموماً یا خُصوصاً ضرورت پڑتی رہتی ہے اور اس کی نگِہداشت و اِحتیاط میں حَرج ہو، ناخنوں کے اندر یا اُوپریا اور کسی دھونے کی جگہ پر اس کے لگے رہ جانے سے اگرچہ جرم دارہو،اگرچہ اس کے نیچے پانی نہ پہنچے، اگرچہ سَخْت چیز ہو وُضو ہو جائے گا ،جیسے پکانے، گوندھنے والوں کے لیے آٹا، رنگریز کے لیے رنگ کا جرم،عورتوں کے لیے مہندی کا جرم، لکھنے والوں کے لیے روشنائی کا جرم،مزدور کے لیے گارا مٹی،عام لوگوں کے لیے کوئے یا پلک میں سُرمہ کا جرم،اسی طرح بدن کا میل، مٹی، غبار، مکھی، مچھر کی بیٹ وغیرہا۔ (3)
مسئلہ ۲۶: کسی جگہ چھالا تھا اور وہ سوکھ گیا مگراس کی کھال جدا نہ ہوئی تو کھال جدا کر کے پانی بہانا ضروری نہیں بلکہ اسی چھالے کی کھال پر پانی بہالینا کافی ہے۔ پھر اس کو جدا کر دیا تو اب بھی اس پر پانی بہانا ضروری نہیں۔ (4)
مسئلہ ۲۷: مچھلی کا سِنّا اعضائے وُضو پر چِپکارہ گیا وُضو نہ ہو گا کہ پانی اس کے نیچے نہ بہے گا۔ (5)